اداریہ ۱۳ ستمبر ۲۰۲۶

حلف سے آگے: شفافیت، میرٹ اور نوجوانوں کا اعتماد

بلوچستان میں سرکاری افسران سے یہ حلف لینا کہ وہ ملازمتوں کی فروخت یا کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث نہیں ہوں گے، بلاشبہ ایک مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ تاہم اگر حکومت واقعی شفافیت، میرٹ اور اچھی حکمرانی کو اپنی شناخت بنانا چاہتی ہے تو اس عمل کو صرف بیوروکریسی تک محدود رکھنے کے بجائے سیاسی قیادت تک بھی وسعت دینا ہوگی۔ اسمبلی کی رکنیت سنبھالنے سے قبل ہر منتخب رکن سے تحریری اور زبانی حلف لیا جائے کہ وہ سرکاری ملازمتوں، تعیناتیوں، تبادلوں اور ترقیوں میں غیر قانونی یا ذاتی مداخلت نہیں کرے گا۔ اسی طرح وزراء سے بھی اسمبلی کے فلور پر عوام کے سامنے حلف لیا جائے تاکہ سیاسی قیادت بھی اپنے آپ کو اسی معیارِ احتساب کے تابع سمجھے جس کا تقاضا سرکاری افسران سے کیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ حکومت ایک باقاعدہ شفاف بھرتی اور شکایات کا آن لائن نظام قائم کرے، جہاں سرکاری ملازمتوں کے امتحانات اور انٹرویوز، جہاں قانونی اور عملی طور پر ممکن ہو، براہِ راست نشر کیے جائیں، امیدواروں کے نمبرز اور میرٹ لسٹیں مقررہ قواعد کے مطابق عوام کے سامنے رکھی جائیں اور ہر بھرتی کے عمل کی نگرانی کا مؤثر نظام موجود ہو۔ اس سے سفارش، اقرباپروری اور غیر شفافیت کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک کا بڑی حد تک ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی نظام میں شکایات اور بدعنوانی کی نشاندہی کے لیے محفوظ طریقہ بھی ہونا چاہیے، تاکہ کوئی شہری یا امیدوار ثبوت کے ساتھ شکایت درج کرا سکے۔ جو الزام باقاعدہ تحقیق کے بعد درست ثابت ہو، اس کی نشاندہی کرنے والے شہری کی حوصلہ افزائی کے لیے قانون کے مطابق خصوصی انعام مقرر کیا جا سکتا ہے، جبکہ جان بوجھ کر جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی الزام ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔ اس توازن کے بغیر احتساب کا نظام یا تو بے اثر ہوگا یا پھر سیاسی انتقام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

آج بلوچستان میں بے چینی اور بداعتمادی کی بڑی وجوہ میں نوجوانوں کا اپنے حقوق، روزگار اور میرٹ کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہونا بھی شامل ہے۔ ایک نوجوان اگر برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہ محسوس کرے کہ اس کی اہلیت کے بجائے سفارش یا اثر و رسوخ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے تو اس کا ریاستی نظام پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر اسے یہ یقین دلایا جائے کہ امتحان شفاف ہوگا، انٹرویو کا عمل قابلِ نگرانی ہوگا، میرٹ لسٹ تبدیل نہیں کی جا سکے گی، شکایت کی آزادانہ تحقیقات ہوں گی اور ثابت شدہ بدعنوانی پر بلاامتیاز کارروائی ہوگی تو اس کے اندر نظام کے ساتھ وابستگی اور اعتماد پیدا ہوگا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ حلف لینے کے اس اقدام کو ایک جامع شفافیت، میرٹ اور احتسابی نظام میں تبدیل کریں۔ بالخصوص محکمہ اطلاعات سمیت ان تمام محکموں میں جہاں بھرتیوں، اشتہارات اور تعیناتیوں کے حوالے سے شکایات سامنے آتی رہی ہیں، غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی بے ضابطگی کے شواہد ملیں تو بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ ایسی کارروائی کسی فرد یا ادارے کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ نظام کی اصلاح کے لیے ہونی چاہیے۔

حکومت اگر یہ ثابت کر دے کہ ملازمت کسی کی جاگیر نہیں، سفارش کسی کا حق نہیں، وزیر اور افسر دونوں قانون کے تابع ہیں اور میرٹ کی خلاف ورزی پر کسی کو تحفظ حاصل نہیں تو یہ محض ایک انتظامی اصلاح نہیں بلکہ بلوچستان کے نوجوانوں کے اعتماد کی بحالی کی طرف بڑا قدم ہوگا۔

حلف ایک اچھا آغاز ہے، مگر اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب حلف عملی نظام، شفاف بھرتی، کھلے احتساب اور بلاامتیاز کارروائی میں تبدیل ہوگا۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو صرف یہ سننے کی ضرورت نہیں کہ انصاف ہوگا؛ انہیں ایسا نظام دکھائی دینا چاہیے جس سے انہیں یقین ہو جائے کہ انصاف واقعی ہو رہا ہے۔ یہی یقین بداعتمادی کو کم اور ریاست، حکومت اور عوام کے درمیان فاصلے کو ختم کر سکتا ہے۔