اداریہ ۱۴ ستمبر ۲۰۲۶

پاکستان بھارت کشیدگی، خطے کے امن کے لیے خطرہ

پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر روس کی تشویش کسی طور غیر متوقع نہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع صرف دو طرفہ معاملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے خطے کے امن، استحکام اور معاشی ترقی پر مرتب ہوتے ہیں۔ آبی تنازع، سرحدی کشیدگی اور مسئلہ کشمیر سمیت دیگر اختلافات نے جنوبی ایشیا کو مسلسل بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ دو جوہری طاقتوں کے درمیان معمولی کشیدگی بھی کسی بڑے تصادم کا سبب بن سکتی ہے، جس کا نقصان صرف پاکستان اور بھارت نہیں بلکہ پورے خطے کے عوام کو اٹھانا پڑے گا۔

روس کی تشویش اس لیے بھی اہم ہے کہ ماسکو پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتا ہے۔ تاہم محض تشویش اور مذاکرات کی عمومی اپیل کافی نہیں، بلکہ خطے کے ذمہ دار ممالک کو کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اور مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں چین اور روس کو مل کر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور دیرینہ تنازعات کے منصفانہ حل کے لیے مؤثر سفارتی کردار ادا کرنا چاہیے۔

مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجوہ میں شامل ہے۔ اگر اس مسئلے سمیت دیگر تنازعات کو منصفانہ اور پائیدار بنیادوں پر حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تو دونوں ممالک اپنی توانائیاں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے عوام کی خوشحالی، معاشی ترقی اور خطے کے امن کے لیے صرف کرسکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا مزید کشیدگی کا متحمل نہیں ہوسکتا؛ اب وقت ہے کہ جنگ اور تصادم کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور پائیدار امن کو ترجیح دی جائے۔