بلوچستان میں وسائل، نمائندگی اور روزگار کی منصفانہ تقسیم کا بنیادی مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ *درست اور قابلِ اعتماد آبادی کے اعداد و شمار کا فقدان بھی ہے۔ نادرا کے مارچ 2024 کے سرکاری فریم ورک کے مطابق بلوچستان کی آبادی 1 کروڑ 44 لاکھ 28 ہزار 184 جبکہ رجسٹرڈ افراد 82 لاکھ 12 ہزار 382 ہیں، یعنی 62 لاکھ 15 ہزار 802 افراد کا رجسٹریشن گیپ موجود ہے۔ سندھ میں یہ فرق 26.56 فیصد، خیبر پختونخوا میں 15.10 فیصد اور پنجاب میں 11.15 فیصد ہے۔
یہ اعداد کئی بنیادی سوالات پیدا کرتے ہیں: آبادی اور رجسٹریشن کے درمیان اتنا بڑا فرق کیوں ہے؟ کون سے اضلاع میں یہ فرق زیادہ ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ جب ان سوالات کے واضح اور قابلِ تصدیق جواب موجود نہ ہوں تو یہی ابہام آگے چل کر وسائل کی تقسیم، سیاسی نمائندگی، ترقیاتی منصوبہ بندی اور روزگار کے معاملات میں محرومی اور بے اعتمادی کو جنم دیتا ہے۔
اس لیے ریاست کو سب سے پہلے مردم شماری کے نظام کو نادرا کے قومی رجسٹریشن نظام سے منسلک کرنا چاہیے تاکہ ہر شہری کا قابلِ تصدیق ریکارڈ موجود ہو اور آبادی کے اعداد و شمار مسلسل اپ ڈیٹ ہوتے رہیں۔ اس نظام میں مادری زبان کا بھی واضح اندراج ہونا چاہیے، جس میں پشتون، بلوچ، سرائیکی، سندھی، پنجابی، اردو اور دیگر زبانیں بولنے والوں کے باقاعدہ خانے موجود ہوں۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے 2023 کے مردم شماری نظام میں مادری زبان کے اعداد و شمار کے لیے باقاعدہ جدول بھی موجود ہے، لہٰذا اس معلومات کو قومی رجسٹریشن کے نظام سے مربوط کرنا ایک منطقی اگلا قدم ہو سکتا ہے۔
درست آبادی سامنے آنے کے بعد اضلاع، ڈویژنز، وسائل اور سیاسی نمائندگی کے لیے واضح، یکساں اور قابلِ جانچ فارمولا بنایا جائے، جس میں آبادی بنیادی معیار ہو اور جغرافیائی و دشوار گزار علاقوں کی قانونی ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔ اسی طرح روزگار میں بھی ایک ہی اصول نافذ ہونا چاہیے؛ ایک ہی نوعیت کی آسامیوں کے لیے مختلف علاقوں میں مختلف معیار یا طریقۂ کار عوام کے سامنے واضح ہونا چاہیے
بھرتی کے نظام کو بھی مکمل طور پر شفاف بنانے کے لیے ایک مرکزی بھرتی ویب سائٹ قائم کی جائے جہاں ہر آسامی کی تعداد، محکمہ، ضلع، کوٹہ، اہلیت، عمر، ٹیسٹ کا نصاب، تاریخ، انٹرویو شیڈول اور حتمی میرٹ لسٹ دستیاب ہو۔ درخواست سے تقرری تک تمام مراحل کا آن لائن ریکارڈ رکھا جائے، جہاں قانونی تقاضے اجازت دیں ٹیسٹ اور انٹرویو براہِ راست نشر کیے جائیں، امیدوار اپنے نمبرز اور میرٹ پوزیشن دیکھ سکیں اور شکایات کے لیے قابلِ نگرانی آن لائن نظام موجود ہو۔
بلوچستان کے نوجوان کسی خصوصی رعایت کے نہیں بلکہ *درست اعداد و شمار، برابر مواقع، شفاف نظام اور یکساں قواعد کے حق دار ہیں۔ جب تک آبادی کا ریکارڈ درست اور قابلِ تصدیق نہیں ہوگا، نمائندگی، وسائل اور روزگار کے بارے میں سوالات اٹھتے رہیں گے۔ اس لیے ریاست کو اب اس بنیادی مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہوگا۔ یعنی بلوچستان میں دوہرا معیار نہیں چلے گا؛ ایک ہی معیار ہونا چاہیے—درست آبادی، مساوی حقوق، شفاف نظام اور میرٹ۔
