دنیا اس وقت ایک ایسے فکری موڑ پر کھڑی ہے جہاں قوم پرستی، مذہبی و ثقافتی برتری اور ’’اپنے لوگوں کو پہلے‘‘ کی سوچ دوبارہ طاقت پکڑ رہی ہے۔ یورپ میں دائیں بازو کی سیاست اور امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اسی بدلتے رجحان کی علامتیں ہیں۔ یہ رجحانات محض مہاجرت یا شناخت کا مسئلہ نہیں بلکہ اس عالمی معاشی عدم توازن کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جس نے دنیا کو عملاً دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
ایک طرف وہ معاشرے ہیں جو دنیا کے وسائل، ٹیکنالوجی اور معاشی مواقع پر زیادہ اختیار رکھتے ہیں، دوسری طرف وہ خطے ہیں جہاں وسائل اور محنت کے باوجود غربت، بے روزگاری اور محرومی بڑھ رہی ہے۔ اگر خوشحال دنیا اپنی ترقی کو دوسروں کے مواقع محدود کرکے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے گی تو یہ عدم مساوات مستقبل میں نئے سیاسی، معاشی اور سماجی تنازعات کو جنم دے سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانوں کو قوم، رنگ، مذہب اور خطے کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے بجائے زمین کو سب کا مشترکہ مسکن سمجھا جائے۔ ریاستوں کی خودمختاری اور قومی شناخت اپنی جگہ اہم ہیں، مگر انسانی وقار، مساوی مواقع، تعلیم، روزگار اور انصاف بھی عالمی اصول ہونے چاہئیں۔
دنیا کو آج دیواریں کھڑی کرنے والوں سے زیادہ ان لوگوں کی ضرورت ہے جو مساوی مواقع اور مشترکہ انسانی مستقبل پر یقین رکھتے ہیں۔ **انسانیت کی بقا اسی میں ہے کہ ایک کرۂ ارض پر رہنے والے انسانوں کو دو درجوں میں تقسیم کرنے کے بجائے سب کے لیے ایک منصفانہ دنیا کی بنیاد رکھی جائے۔
