ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف عوام پہلے ہی سراپا احتجاج ہیں، ایسے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے موٹرسائیکل، رکشے، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لٹر ریلیف کا اعلان بظاہر ایک مثبت اور عوام دوست قدم ہے، مگر اس کے عملی طریقہ کار نے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ عوام اس وقت کسی پیچیدہ رجسٹریشن یا محدود مدت کے ریلیف کے بجائے فوری اور آسان ریلیف چاہتے ہیں، جبکہ پٹرول پمپ انتظامیہ بھی ایسے نظام کی پابند ہے جس میں قانون، ریکارڈ اور قیمتوں کے تعین کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔ 20 یا 30 لٹر تک محدود ریلیف، شناختی کارڈ، موبائل نمبر اور گاڑی کی تصدیق جیسے مراحل عام شہری کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں اور اس صورتحال میں اضافی رقم وصول کرنے کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ریلیف کو مزید آسان، شفاف اور براہِ راست بنائے اور شناختی کارڈ کے ذریعے ہر مستحق شہری کو مقررہ مقدار میں پٹرول پر واضح سبسڈی دینے کا قابلِ عمل نظام متعارف کرائے، تاکہ پٹرول پمپ انتظامیہ بھی قانون کے مطابق کام کرے اور عوام کو بھی کسی اضافی الجھن کا سامنا نہ ہو۔
اس کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کے طریقہ کار پر بھی نظرثانی ضروری ہے، کیونکہ قیمتوں میں بار بار تبدیلی نے عوام اور کاروباری طبقے کو شدید غیر یقینی سے دوچار کر رکھا ہے۔اگر حکومت واقعی عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو روزانہ کی بنیاد پر عوام تک منتقل کرنا چاہتی ہے تو یہی اصول سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ ایک ایسا شفاف فارمولا وضع کیا جائے جس کے تحت پٹرول کی قیمت بڑھنے پر سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اسی تناسب سے اضافہ ہو اور قیمت کم ہونے پر تنخواہ میں اسی تناسب سے کمی کی جائے۔** اس طرح مہنگائی کا بوجھ صرف عام شہری اور نجی شعبے کے کارکنوں پر منتقل نہیں ہوگا بلکہ ریاستی نظام بھی پٹرول کی قیمتوں کے اثرات میں عوام کے ساتھ شریک ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اس فارمولے کو کم آمدنی والے ملازمین کے لیے تحفظ اور کم از کم تنخواہ کی ضمانت کے ساتھ مرتب کرنا ہوگا۔
حکومت اگر واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے پٹرولیم لیوی، سرکاری افسران اور حکام کو حاصل مفت پٹرول کی مراعات اور قیمتوں کے تعین کے فارمولے پر بھی سنجیدہ اصلاحات کرنا ہوں گی۔ عوام کو ایسے ریلیف کی ضرورت ہے جو اعلان سے آگے بڑھ کر پٹرول پمپ پر عملی طور پر نظر آئے؛ کیونکہ موجودہ حالات میں **سو روپے کا مبہم ریلیف عوام کو مطمئن کرنے کے بجائے عوام اور پٹرول پمپ انتظامیہ کے درمیان ایک نئی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔
