عابد شیر علی کا ایک حالیہ پروگرام میں ایمل ولی خان سے یہ پوچھنا کہ ’’آپ کون ہیں؟‘‘ محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ تاریخ سے ناآشنائی کا اظہار ہے۔ ایمل ولی خان باچا خان کے پڑپوتے، خان عبدالولی خان کے پوتے اور اسفندیار ولی خان کے فرزند ہیں۔ باچا خان نے برصغیر میں آزادی، عدم تشدد اور پشتونوں کی سیاسی و سماجی بیداری کے لیے زندگی وقف کی، نئی نسل کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ادارے قائم کیے اور انگریزی استعمار کے ہاتھوں طویل قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ خان عبدالولی خان نے بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کے نازک ترین دور میں اہم کردار ادا کیا؛ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد شکست خوردہ اور مایوس قوم کو متفقہ آئین دینے کے عمل میں نمایاں کردار ادا کیا اور حیدرآباد سازش کیس میں انہیں اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو سخت ترین سزائیں دلانے کی کوشش کی گئی، جو بالآخر ناکام ہوئی۔ یہ وہ سیاسی ورثہ ہے جس سے ایمل ولی خان وابستہ ہیں، اس لیے کسی پروگرام میں بیٹھ کر یہ سوال کرنا کہ ’’آپ کون ہیں؟‘‘ دراصل تاریخ کے ان ابواب سے بے خبری ظاہر کرتا ہے جنہیں پڑھنے کی ضرورت ہے۔ عابد شیر علی کے اپنے خاندان کی سیاسی تاریخ اپنی جگہ، مگر سیاست میں کوئی خاندان یا فرد ہمیشہ کے لیے عوامی فیصلے کا مالک نہیں ہوتا۔ فیصل آباد میں ان کا طویل سیاسی اثر و رسوخ بھی عوامی فیصلے کے سامنے آیا؛ 2018ء کی شکست کے بعد 2024ء میں آزاد امیدوار چنگیز احمد خان کاکڑ کے ہاتھوں بھاری شکست اس حقیقت کی واضح یاد دہانی ہے کہ سیاسی قد عوام بناتے ہیں اور عوام ہی گھٹاتے ہیں۔ کسی دوسرے رہنما کے تاریخی قد پر سوال اٹھانے سے اپنا قد بلند نہیں ہوتا۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو بھی اس واقعے کو محض دو سیاست دانوں کا باہمی اختلاف سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ پاکستان مختلف قوموں، زبانوں اور سیاسی روایات کا ملک ہے اور کسی تاریخی سیاسی خاندان یا قوم کے بارے میں تحقیر آمیز لہجہ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بہتر ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) عابد شیر علی کو اپنے الفاظ پر غور کرنے اور ایمل ولی خان سمیت پشتون قوم سے اس نامناسب طرزِ گفتگو پر معذرت کا مشورہ دے۔ دوسری جانب ایمل ولی خان اور ان کے سیاسی رفقا کے لیے بھی مناسب راستہ یہی ہے کہ جواب دینے سے پہلے سوال کرنے والی کی حیثیت کا جائزہ،تاریخ، دلیل، برداشت اور سیاسی شائستگی سے دینے کی حکمت عملی اپنائے، کیونکہ باچا خان کی جدوجہد کا بنیادی سبق ہی عدم تشدد، برداشت اور مکالمہ تھا۔ سیاسی قد ٹی وی پروگرام میں بلند آواز سے نہیں، بلکہ تاریخ میں ثبت جدوجہد، عوامی خدمت اور کردار سے بنتا ہے۔
