اداریہ ۹ ستمبر ۲۰۲۶

مصنوعی ذہانت: انسانیت کے لیے خطرے کی گھنٹیاں اور ترقی یافتہ دنیا کی ذمہ داری

مصنوعی ذہانت بلاشبہ انسانی تاریخ کی ایک بڑی تکنیکی پیش رفت ہے، مگر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اس کی فکری قوت کوئی الگ اور خودمختار ایجاد نہیں، بلکہ صدیوں کے انسانی علم، تحقیق، تجربات، مشاہدات، تحریروں اور افکار کا مجموعہ ہے۔ انسان نے جو کچھ دریافت، تخلیق اور محفوظ کیا، مصنوعی ذہانت اسی اجتماعی علمی سرمائے سے سیکھ کر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتی ہے۔ خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسانی علم سے تشکیل پانے والا یہ نظام خود کو اس رفتار سے بہتر بنانے لگے کہ انسانی نگرانی اور کنٹرول اس کے مقابلے میں کمزور پڑ جائے۔ مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی سے مستعفی ہونے والے 27 سالہ محقق جیکب کاکسن، جو تین سال تک اوپن اے آئی اور اینتھروپک میں مصنوعی ذہانت کی تربیت سے متعلق تحقیق کرتے رہے، نے خبردار کیا ہے کہ انتہائی طاقتور مصنوعی ذہانت مستقبل میں انسانیت کے لیے تباہ کن خطرہ بن سکتی ہے۔

یہ انتباہ نظرانداز کرنے کا متحمل انسان نہیں ہوسکتا۔ مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب صرف سائنسی ترقی کا معاملہ نہیں رہی بلکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان طاقت اور تجارتی برتری کی دوڑ بھی بن چکی ہے۔ ایسے میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنی بنائی ہوئی اس طاقت پر آخری حد تک کنٹرول برقرار رکھ سکے گا؟ اگر مستقبل کی مصنوعی ذہانت خود کو مسلسل بہتر بنانے، پیچیدہ فیصلے کرنے اور انسانوں سے کہیں زیادہ طاقتور نظاموں تک رسائی حاصل کرنے کے قابل ہوگئی تو معمولی سی غفلت بھی غیر معمولی نتائج پیدا کرسکتی ہے۔ اس لیے مصنوعی ذہانت کی ترقی روکنے کے بجائے اس کے ساتھ سخت حفاظتی ضوابط، آزادانہ نگرانی، اخلاقی اصول، عالمی قوانین اور ہنگامی صورت میں اسے محدود یا بند کرنے کے مؤثر نظام ناگزیر ہیں۔

ترقی یافتہ دنیا اور مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ منافع اور باہمی مسابقت سے پہلے انسانیت کے مستقبل کو ترجیح دیں۔ دنیا ایٹمی ٹیکنالوجی کے تجربے سے بخوبی واقف ہے کہ انسان جب کسی نئی طاقت کو وجود میں لاتا ہے تو اس کے ممکنہ نتائج ہمیشہ اس کی ابتدائی سوچ تک محدود نہیں رہتے۔ مصنوعی ذہانت کے معاملے میں بھی احتیاط کا وقت خطرہ پیدا ہونے کے بعد نہیں بلکہ خطرہ پیدا ہونے سے پہلے ہے۔ انسانی افکار کے مجموعے سے پیدا ہونے والی یہ طاقت اگر انسانیت کے تحفظ، تعلیم، تحقیق اور فلاح کے لیے استعمال ہو تو عظیم نعمت ثابت ہوسکتی ہے، لیکن اگر اس کی رفتار انسانی اختیار سے آگے نکل گئی تو یہی کامیابی ایک بڑے المیے میں بدل سکتی ہے۔ اب اصل مقابلہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون سب سے طاقتور مصنوعی ذہانت بناتا ہے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ *کون مصنوعی ذہانت کو انسانیت کے لیے محفوظ بناتا ہے۔