جب انسان نے بندوق کے منہ میں بارود بھر کر اسے فائر کیا تو شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہی معمولی سا تجربہ ایک دن ایٹم بم جیسے تباہ کن ہتھیار کی ایجاد تک پہنچے گا۔ آج دنیا جدید مواصلاتی نظام، انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی پر اس قدر انحصار کر چکی ہے کہ اگر کسی بڑے سائبر حملے، عالمی تکنیکی بحران یا کسی تباہ کن واقعے کے نتیجے میں ڈیجیٹل نظام طویل عرصے کے لیے مفلوج ہوجائے تو سوال صرف رابطے کے منقطع ہونے کا نہیں بلکہ انسانی علم، تاریخ، تحقیق اور اجتماعی یادداشت کے تحفظ کا بھی ہوگا۔ ڈیجیٹل دنیا نے معلومات تک رسائی آسان ضرور بنا دی ہے، مگر یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ سرور، ڈیٹا سینٹر، نیٹ ورک اور برقی نظام انسانی ٹیکنالوجی کے محتاج ہیں۔ اس لیے دنیا کو جدید مواصلاتی ذرائع کے ساتھ ساتھ پرنٹ شدہ مواد کو بھی غیر معمولی اہمیت دینا ہوگی، کیونکہ کتاب، اخبار، رسالہ اور دستاویزی ریکارڈ کسی مرکزی ڈیجیٹل نظام کے بغیر بھی نسلوں تک علم منتقل کر سکتے ہیں۔
تاریخ ہمیں اس خطرے سے پہلے ہی آگاہ کر چکی ہے۔ بغداد میں عباسی دور کے علمی مراکز اور کتب خانوں کی تباہی کے نتیجے میں بے شمار علمی ذخائر ضائع ہوئے۔ 1258ء میں منگول حملے کے دوران بغداد کی علمی اور تہذیبی میراث کو پہنچنے والے نقصان نے مسلم دنیا کے علمی تسلسل کو شدید متاثر کیا۔ جب کتابیں، مخطوطات اور علمی ریکارڈ محفوظ نہ رہیں تو آنے والی نسلیں اپنے ماضی کے ایک بڑے حصے سے محروم ہوگئیں۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ علم صرف تخلیق کرنا کافی نہیں، اسے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ آج اگر ہم اپنی پوری علمی میراث کو صرف ڈیجیٹل سرورز، کلاؤڈ نظاموں اور آن لائن ذخیرے تک محدود کر دیں تو کسی بڑے عالمی بحران کی صورت میں آنے والی نسلیں اسی نوعیت کے علمی خلا کا سامنا کر سکتی ہیں۔
دنیا کو اب علم کے تحفظ کی دوہری حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو ترک کرنا نہیں بلکہ اس کے ساتھ پرنٹ شدہ کتابوں، اخبارات، رسائل، سرکاری ریکارڈ، تحقیقی مقالوں اور تاریخی دستاویزات کے محفوظ ذخائر بھی قائم کرنا ہوں گے۔ ہر اہم علمی مواد کی متعدد شکلوں میں حفاظت ہی حقیقی علمی تحفظ ہے۔ آج کا اخبار صرف آج کی خبر نہیں، کل کی تاریخ کا بنیادی ماخذ بھی ہے۔ اگر ڈیجیٹل دنیا کسی دن خاموش ہوجائے تو وہی کتابیں، اخبارات اور دستاویزات انسان کو بتائیں گی کہ اس سے پہلے دنیا کیا سوچتی، لکھتی اور کرتی تھی۔ اس لیے پرنٹ میڈیا کو ماضی کی ٹیکنالوجی سمجھ کر نظرانداز کرنا ایک تاریخی غلطی ہوگی؛ پرنٹ دراصل انسانی تہذیب کی اجتماعی یادداشت کا ایسا ذخیرہ ہے جسے بجلی، انٹرنیٹ یا کسی ایک مرکزی نظام کے بغیر بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
