جنوبی پشتونخوا کے مختلف علاقوں میں گزشتہ کچھ عرصے سے قتل و غارت، مسلح افراد کی نقل و حرکت اور عوام میں بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کے واقعات انتہائی تشویش ناک صورت اختیار کر رہے ہیں۔ مسیلخ کے پہاڑی سلسلے میں بعض واقعات کے بعد مقامی لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کیے جانے کی اطلاعات، جبکہ منگل کی شام دولنگی کے قریب سیگی ترین کے مقامی افراد اور مسلح افراد کے درمیان براہِ راست تصادم اور بعد ازاں پہاڑی علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ، اس امر کی علامت ہے کہ صورتحال محض معمولی امن و امان کا مسئلہ نہیں رہی۔ دوسری جانب اندرونِ صوبہ پشتون ٹرانسپورٹ کی آمدورفت روکنے، گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور ڈرائیوروں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں، روزگار اور عوامی آمدورفت مزید متاثر ہو رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات محض چند اضلاع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے صوبے کے معاشی اور سماجی ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اس صورتحال کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ پشتون علاقوں میں تجارت، روزگار اور محنت مزدوری کے لیے آنے والے افراد کو نشانہ بنانے کے واقعات نہ صرف مقامی امن کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں آباد پشتونوں کے خلاف نفرت اور ردعمل کو بھی جنم دے سکتے ہیں۔ اسی طرح پشتون ٹرانسپورٹ، ڈرائیوروں اور کاروباری طبقے کو نشانہ بنانا ایک ایسا ردعمل پیدا کر سکتا ہے جس کی قیمت عام اور بے گناہ شہریوں کو ادا کرنا پڑے گی۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سیگی ترین، اچکزئی، سید کاکڑ اور دیگر قبائل کے نوجوانوں نے باہمی تنازعات کو پسِ پشت ڈال کر مسلح عناصر کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل پر غور کیا ہے۔ اگر مقامی سطح پر مسلح جوابی کارروائی کا رجحان پیدا ہوتا ہے تو یہ صورتحال کو مزید پیچیدہ اور خونریز بنا سکتا ہے۔ ریاست کو اس مرحلے پر خاص طور پر اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ شہری قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور نہ ہوں۔
حکومت بلوچستان کے لیے یہ وقت محض بیانات دینے کا نہیں بلکہ فوری، غیر جانب دار اور مؤثر عملی اقدامات کا ہے۔ حساس علاقوں میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے، شاہراہوں اور ٹرانسپورٹ کے تحفظ، ڈرائیوروں اور مسافروں کی جان و مال کی حفاظت اور مسلح عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کے لیے واضح حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ ساتھ ہی مقامی قبائل، سیاسی جماعتوں، ٹرانسپورٹرز اور نوجوانوں کو اعتماد میں لے کر ایسا امن کا نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں ریاست اور عوام ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے محافظ ہوں۔ آج اگر ٹرانسپورٹ بند ہوتی ہے، ڈرائیور نشانہ بنتے ہیں، مزدور قتل ہوتے ہیں اور مقامی نوجوان اپنے دفاع کے لیے مسلح ہونے کا سوچتے ہیں تو یہ صرف چند واقعات نہیں بلکہ آنے والے بڑے بحران کی دستک ہے۔ مستقبل کا تقاضا یہی ہے کہ اس دستک کو سنجیدگی سے سنا جائے، کیونکہ امن ایک مرتبہ ہاتھ سے نکل جائے تو اسے واپس لانے کی قیمت ہمیشہ کہیں زیادہ ہوتی ہے۔
