بلوچستان کے حوالے سے حالیہ سیاسی و قومی نشستیں بلاشبہ ایک احسن اور امید افزا اقدام ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے گرینڈ ڈائیلاگ کی دعوت اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بلوچستان کی سیاسی و سماجی شخصیات سے ملاقات اس امر کا اظہار ہے کہ صوبے کے مسائل کو محض انتظامی یا سکیورٹی کے زاویے سے نہیں بلکہ وسیع تر قومی مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ بلوچستان کی ترقی، امن، سیاسی استحکام اور عوامی اعتماد کے لیے ایسی نشستوں کا تسلسل وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تاہم کسی بھی قومی مکالمے کی کامیابی صرف نشست منعقد کرنے سے ممکن نہیں ہوتی، بلکہ اس کے شرکاء، مشاورت کے طریقہ کار اور اظہارِ رائے کی آزادی بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا پر حالیہ نشستوں کے حوالے سے بعض اہم شخصیات کو ان کی حیثیت کے مطابق پروٹوکول نہ ملنے کی جو باتیں سامنے آئی ہیں، اگرچہ ان کی مکمل تصدیق الگ معاملہ ہے، لیکن اس قسم کے تاثر بھی ایک اچھے اقدام کی معنویت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ قومی سطح کے مکالمے میں شخصیات کو ان کے عہدے سے زیادہ ان کی حقیقی سیاسی، سماجی، قبائلی، علمی اور عوامی نمائندگی کی بنیاد پر جگہ ملنی چاہیے۔
بلوچستان کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں حقیقی قیادت اور مصنوعی یا کاغذی قیادت کے درمیان فرق کیے بغیر مشاورت کے دائرے تشکیل دیے جاتے رہے ہیں۔ جو شخص برسوں عوام کے درمیان رہا ہو، جس نے اپنے علاقے کے مسائل برداشت کیے ہوں، جس کا عوام سے براہ راست رابطہ ہو اور جو اختلافِ رائے کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اس کی حیثیت محض کسی عہدے یا سرکاری قربت رکھنے والے فرد سے مختلف ہوتی ہے۔ اسی طرح دانشور بھی صرف عہدہ، کتاب یا چند رسمی بیانات سے نہیں بنتا؛ حقیقی دانشوری عوامی مسائل کی گہرائی، زمینی حقائق کے ادراک اور بے لاگ رائے دینے کی صلاحیت کا نام ہے۔
اسی لیے بلوچستان کے موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ حکومت حقیقی سیاسی قیادت، قبائلی عمائدین، نوجوانوں، ماہرین، صحافیوں، اہلِ قلم اور ان دانشوروں سے باقاعدہ مشاورت کا سلسلہ شروع کرے جو بلوچستان کے مسائل کو قریب سے سمجھتے ہیں۔ کاغذی فہرستوں اور سرکاری پسند و ناپسند کی بنیاد پر بننے والے مشاورتی حلقے کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں دے سکتے۔ اگر مقصد واقعی بلوچستان کے عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے تو اختلاف رکھنے والی آوازوں کو بھی سننا ہوگا۔
اسی تناظر میں صوبائی حکومت کی جانب سے 16 اپریل کو کابینہ اجلاس میں منظور کی گئی میڈیا پالیسی بھی خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ اس پالیسی کے خدوخال کے بارے میں ابہام موجود ہے، جبکہ پرنٹ میڈیا اور صوبائی حکومت کے درمیان فاصلے کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اگر حکومت کے اندر موجود بعض عناصر حقیقی اسٹیک ہولڈرز اور وزیراعلیٰ کے درمیان براہ راست بات چیت میں رکاوٹ بن رہے ہیں تو یہ صورتحال کسی ایک فریق کے مفاد میں نہیں۔ اختلافات کا حل بند دروازوں کے بجائے ایک میز پر بیٹھ کر ہی ممکن ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ ہر خبر، ہر بیان اور ہر شخصیت کی ہر سرگرمی کی تشہیر ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتی۔ بعض اوقات غیر ضروری تشہیر کسی سیاسی یا سماجی شخصیت کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔ کسی شخصیت کے مخصوص اجلاس میں شریک ہونے، کسی سے ملاقات کرنے یا کسی موقف کے اظہار کو ضرورت سے زیادہ نمایاں کرنا بعض اوقات اس کے سیاسی مخالفین کو غیر ضروری مواد فراہم کرتا ہے یا عوام میں ایسے تاثر کو جنم دیتا ہے جو خود اس شخصیت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ صحافت کا کام صرف تشہیر کرنا نہیں بلکہ خبر کی اہمیت، عوامی مفاد اور اس کے ممکنہ اثرات کو بھی سمجھنا ہے۔
اس لیے ذرائع ابلاغ کو بھی خبر اور تشہیر کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ جو بات عوامی مفاد میں ہو اسے ضرور سامنے آنا چاہیے، لیکن کسی فرد یا گروہ کی ایسی سرگرمی جس کی غیر ضروری تشہیر خود اس کے سیاسی نقصان کا سبب بن سکتی ہو، اسے محض تعلقات، پسند یا خبر بنانے کی خواہش کے تحت نمایاں کرنا صحافتی ذمہ داری کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ خصوصاً بلوچستان جیسے حساس سیاسی ماحول میں الفاظ، تصاویر، سرخیاں اور پروٹوکول کی معمولی تفصیلات بھی بڑے سیاسی معنی اختیار کر سکتی ہیں۔
حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ آزاد اور مضبوط پرنٹ میڈیا حکومت کا مخالف نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک اہم پل ہے۔ اگر پرنٹ میڈیا کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز حکومت کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں تو ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں کسی تیسرے فریق یا غیر ضروری رکاوٹ کی ضرورت نہیں۔ وزیراعظم خود بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مشاورت اور گرینڈ ڈائیلاگ کی بات کر رہے ہیں تو صوبائی سطح پر بھی اسی اصول کو اختیار کیا جانا چاہیے۔
بلوچستان کو آج مصنوعی اتفاقِ رائے نہیں بلکہ حقیقی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے؛ کاغذی دانشور نہیں بلکہ زمینی دانشور، نمائشی قیادت نہیں بلکہ حقیقی قیادت، اور یک طرفہ فیصلے نہیں بلکہ باوقار مشاورت چاہیے۔ حکومت اگر واقعی بلوچستان کے مستقبل کو بہتر بنانا چاہتی ہے تو اسے ہر شعبے کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز کی شناخت کرکے ان سے مسلسل رابطے کا ادارہ جاتی نظام قائم کرنا ہوگا۔
قومی مکالمے کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب حکومت سننے کا حوصلہ، قیادت کو پہچاننے کی بصیرت اور اختلاف کو برداشت کرنے کا ظرف پیدا کرے۔ بلوچستان کے مسائل کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک ادارے کے مسائل نہیں؛ یہ پورے پاکستان کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے بلوچستان کے بارے میں فیصلے بھی حقیقی بلوچستان کو اعتماد میں لے کر ہی ہونے چاہئیں۔ یہی مکالمہ اعتماد پیدا کرے گا، یہی اعتماد سیاسی استحکام لائے گا اور یہی استحکام بلوچستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جانے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
مکالمے میں شخصیات کو ان کے عہدے سے زیادہ ان کی حقیقی سیاسی، سماجی، قبائلی، علمی اور عوامی نمائندگی کی بنیاد پر جگہ ملنی چاہیے۔
بلوچستان کا ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں حقیقی قیادت اور مصنوعی یا کاغذی قیادت کے درمیان فرق کیے بغیر مشاورت کے دائرے تشکیل دیے جاتے رہے ہیں۔ جو شخص برسوں عوام کے درمیان رہا ہو، جس نے اپنے علاقے کے مسائل برداشت کیے ہوں، جس کا عوام سے براہ راست رابطہ ہو اور جو اختلافِ رائے کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہنے کی صلاحیت رکھتا ہو، اس کی حیثیت محض کسی عہدے یا سرکاری قربت رکھنے والے فرد سے مختلف ہوتی ہے۔ اسی طرح دانشور بھی صرف عہدہ، کتاب یا چند رسمی بیانات سے نہیں بنتا؛ حقیقی دانشوری عوامی مسائل کی گہرائی، زمینی حقائق کے ادراک اور بے لاگ رائے دینے کی صلاحیت کا نام ہے۔
اسی لیے بلوچستان کے موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ حکومت حقیقی سیاسی قیادت، قبائلی عمائدین، نوجوانوں، ماہرین، صحافیوں، اہلِ قلم اور ان دانشوروں سے باقاعدہ مشاورت کا سلسلہ شروع کرے جو بلوچستان کے مسائل کو قریب سے سمجھتے ہیں۔ کاغذی فہرستوں اور سرکاری پسند و ناپسند کی بنیاد پر بننے والے مشاورتی حلقے کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں دے سکتے۔ اگر مقصد واقعی بلوچستان کے عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے تو اختلاف رکھنے والی آوازوں کو بھی سننا ہوگا۔
اسی تناظر میں صوبائی حکومت کی جانب سے 16 اپریل کو کابینہ اجلاس میں منظور کی گئی میڈیا پالیسی بھی خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ اس پالیسی کے خدوخال کے بارے میں ابہام موجود ہے، جبکہ پرنٹ میڈیا اور صوبائی حکومت کے درمیان فاصلے کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اگر حکومت کے اندر موجود بعض عناصر حقیقی اسٹیک ہولڈرز اور وزیراعلیٰ کے درمیان براہ راست بات چیت میں رکاوٹ بن رہے ہیں تو یہ صورتحال کسی ایک فریق کے مفاد میں نہیں۔ اختلافات کا حل بند دروازوں کے بجائے ایک میز پر بیٹھ کر ہی ممکن ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ ہر خبر، ہر بیان اور ہر شخصیت کی ہر سرگرمی کی تشہیر ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتی۔ بعض اوقات غیر ضروری تشہیر کسی سیاسی یا سماجی شخصیت کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔ کسی شخصیت کے مخصوص اجلاس میں شریک ہونے، کسی سے ملاقات کرنے یا کسی موقف کے اظہار کو ضرورت سے زیادہ نمایاں کرنا بعض اوقات اس کے سیاسی مخالفین کو غیر ضروری مواد فراہم کرتا ہے یا عوام میں ایسے تاثر کو جنم دیتا ہے جو خود اس شخصیت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ صحافت کا کام صرف تشہیر کرنا نہیں بلکہ خبر کی اہمیت، عوامی مفاد اور اس کے ممکنہ اثرات کو بھی سمجھنا ہے۔
اس لیے ذرائع ابلاغ کو بھی خبر اور تشہیر کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔ جو بات عوامی مفاد میں ہو اسے ضرور سامنے آنا چاہیے، لیکن کسی فرد یا گروہ کی ایسی سرگرمی جس کی غیر ضروری تشہیر خود اس کے سیاسی نقصان کا سبب بن سکتی ہو، اسے محض تعلقات، پسند یا خبر بنانے کی خواہش کے تحت نمایاں کرنا صحافتی ذمہ داری کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ خصوصاً بلوچستان جیسے حساس سیاسی ماحول میں الفاظ، تصاویر، سرخیاں اور پروٹوکول کی معمولی تفصیلات بھی بڑے سیاسی معنی اختیار کر سکتی ہیں۔
حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ آزاد اور مضبوط پرنٹ میڈیا حکومت کا مخالف نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک اہم پل ہے۔ اگر پرنٹ میڈیا کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز حکومت کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں تو ان کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں کسی تیسرے فریق یا غیر ضروری رکاوٹ کی ضرورت نہیں۔ وزیراعظم خود بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے مشاورت اور گرینڈ ڈائیلاگ کی بات کر رہے ہیں تو صوبائی سطح پر بھی اسی اصول کو اختیار کیا جانا چاہیے۔
بلوچستان کو آج مصنوعی اتفاقِ رائے نہیں بلکہ حقیقی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے؛ کاغذی دانشور نہیں بلکہ زمینی دانشور، نمائشی قیادت نہیں بلکہ حقیقی قیادت، اور یک طرفہ فیصلے نہیں بلکہ باوقار مشاورت چاہیے۔ حکومت اگر واقعی بلوچستان کے مستقبل کو بہتر بنانا چاہتی ہے تو اسے ہر شعبے کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز کی شناخت کرکے ان سے مسلسل رابطے کا ادارہ جاتی نظام قائم کرنا ہوگا۔
قومی مکالمے کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب حکومت سننے کا حوصلہ، قیادت کو پہچاننے کی بصیرت اور اختلاف کو برداشت کرنے کا ظرف پیدا کرے۔ بلوچستان کے مسائل کسی ایک جماعت، ایک حکومت یا ایک ادارے کے مسائل نہیں؛ یہ پورے پاکستان کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے بلوچستان کے بارے میں فیصلے بھی حقیقی بلوچستان کو اعتماد میں لے کر ہی ہونے چاہئیں۔ یہی مکالمہ اعتماد پیدا کرے گا، یہی اعتماد سیاسی استحکام لائے گا اور یہی استحکام بلوچستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جانے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
