پاکستان کے پشتون اور بلوچ علاقوں کے مسائل کو اگر محض امن و امان، آپریشن اور انتظامی اقدامات کے زاویے سے دیکھا جائے تو مسئلے کی بنیادی نوعیت ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔ پائیدار امن صرف طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ تعلیم، روزگار، سڑک، ریلوے، صنعت، انصاف اور اپنے وسائل پر بااختیار ہونے کے احساس سے پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ضرورت کسی فرد یا ادارے کو موردِ الزام ٹھہرانے کی نہیں بلکہ ایسے قابلِ عمل قومی منصوبے کی ہے جو پشتون اور بلوچ علاقوں کو پاکستان کی معاشی ترقی کا فعال مرکز بنا دے۔ چین سے گوادر اور تفتان تک جدید ریلوے رابطہ قائم کیا جائے، جبکہ تفتان کو کوئٹہ، ژوب، ٹانک اور پشاور کے راستے ملک کے مرکزی ریلوے نظام سے منسلک کیا جائے۔ اسی طرح چین سے گوادر تک سڑک اور ریل کے جدید راستے تعمیر ہوں اور تمام بڑے شہروں، قبائلی اضلاع اور معدنی علاقوں کو مقامی سڑکوں کے مضبوط جال سے جوڑا جائے۔ یہ راستے صرف سفر آسان نہ کریں بلکہ تجارت، صنعت، تعلیم اور روزگار کی نئی شاہراہ بنیں۔
برطانوی دور میں پشاور سے ٹانک اور کوئٹہ سے ژوب تک ریلوے رابطوں کا بنیادی ڈھانچہ قائم کیا گیا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہ نظام بتدریج ختم ہوتا گیا۔ آج ضرورت ماضی کی اس میراث کو جدید تقاضوں کے مطابق بحال اور توسیع دینے کی ہے۔ اگر چین سے گوادر اور تفتان تک برداشت پشاور ٹانک ژوب کویٹہ جدید ریلوے کوریڈور تعمیر کیا جائے تو پاکستان چین، ایران، افغانستان، وسطی ایشیا اور بالآخر یورپ کے درمیان ایک اہم تجارتی پل بن سکتا ہے۔ گوادر بحیرۂ عرب کا دروازہ بنے، تفتان ایران اور آگے ترکی و یورپ سے رابطے کا راستہ بنے، جبکہ پشاور وسطی ایشیا اور افغانستان کے لیے تجارتی مرکز کی حیثیت اختیار کرے۔ مال بردار ٹرینوں کے ساتھ مسافر ٹرینوں کا جدید نظام بھی قائم کیا جائے تاکہ تجارت کے ساتھ عوامی آمدورفت کے امکانات بھی وسیع ہوں۔ اس پورے منصوبے سے بلوچستان اور پشتون علاقوں کی جغرافیائی دوری معاشی طاقت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
اس ترقیاتی تصور کا دوسرا ستون تعلیم ہونا چاہیے۔ پشتون اور بلوچ علاقوں میں صرف روایتی ڈگریاں دینے والے ادارے قائم کرنا کافی نہیں۔ ہر بڑے علاقے میں معیاری اسکولوں کے ساتھ فنی، طبی، انجینئرنگ، معدنیات، زراعت، آبپاشی، توانائی، جدید صنعت اور اطلاعاتی علوم کے ادارے قائم کیے جائیں۔ نوجوانوں کو صرف سرکاری ملازمت کے امیدوار بنانے کے بجائے ہنرمند، صنعت کار، انجینئر، ماہرِ معدنیات، ٹیکنیشن، طبی ماہر اور کاروباری افراد بنایا جائے۔ جس علاقے میں جو قدرتی وسیلہ موجود ہے، وہاں کے نوجوانوں کو اسی وسیلے کی جدید سائنسی اور صنعتی تعلیم دی جائے تاکہ خام مال باہر بھیجنے کے بجائے مقامی سطح پر اس کی قدر میں اضافہ ہو اور روزگار بھی وہیں پیدا ہو۔ تعلیم کا مقصد صرف منشی پیدا کرنا نہیں بلکہ اپنے علاقے کے وسائل کو سمجھنے، استعمال کرنے اور نئی دولت پیدا کرنے والی نسل تیار کرنا ہونا چاہیے۔
تیسرا مرحلہ صنعتی انقلاب کا ہونا چاہیے۔ بلوچستان اور پشتون علاقوں میں قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع اور تجارتی امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے خصوصی صنعتی زون و ریفائنریاں قائم کیے جائیں، جہاں مقامی لوگوں کو ترجیحی روزگار، فنی تربیت، سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع حاصل ہوں۔ گوادر کو صرف بندرگاہ نہیں بلکہ چین، وسطی ایشیا، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت کا بڑا مرکز بنایا جائے۔ معدنیات، ماربل، کرومائٹ، کوئلہ، تانبہ، سونا، زراعت، پھلوں، مویشیوں اور دیگر وسائل کو جدید صنعت سے جوڑ کر مقامی معیشت مضبوط کی جائے۔ وسائل کی تلاش، استعمال اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کی حقیقی شرکت اور فیصلہ سازی کو آئینی و قانونی طریقہ کار کے تحت یقینی بنایا جائے، تاکہ ترقی کسی علاقے پر مسلط ہونے کے بجائے وہاں کے لوگوں کی شراکت سے آگے بڑھے۔
قدرتی وسائل کے معاملے میں بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ جس علاقے سے وسائل نکلتے ہیں، وہاں کے عوام کو ان وسائل کے بارے میں فیصلہ سازی، روزگار، کاروباری مواقع اور ترقیاتی ثمرات میں واضح اور منصفانہ حصہ حاصل ہو۔ اس کا مطلب ریاستی اختیار کو کمزور کرنا نہیں بلکہ ریاست اور مقامی آبادی کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرنا ہے۔ وسائل کی ملکیت، آمدن کی تقسیم اور انتظام کے بارے میں آئین، قانون اور قومی اتفاقِ رائے کے مطابق واضح نظام تشکیل دیا جائے، تاکہ کسی بھی علاقے کو یہ احساس نہ ہو کہ اس کے قدرتی خزانے اس کی ترقی کے بجائے اس کی محرومی کا سبب بن رہے ہیں۔
اس پورے منصوبے کے ساتھ ایک منصفانہ مالیاتی معاہدہ بھی ناگزیر ہے۔ وفاق کو چلانے کے لیے صوبوں سے وسائل کی فراہمی میں آبادی کو بنیادی معیار رکھا جاسکتا ہے، کیونکہ زیادہ آبادی والے صوبے وفاقی خدمات اور قومی اخراجات میں زیادہ حصہ ڈالتے ہیں؛ تاہم صوبوں کو وسائل کی تقسیم کے وقت صرف آبادی کو معیار بنانا کافی نہیں۔ رقبہ، پسماندگی، قدرتی وسائل، جغرافیائی اہمیت، غربت اور ترقیاتی ضروریات کو بھی مناسب وزن دینا ہوگا۔ خصوصاً بڑے رقبے والے صوبوں کے لیے مواصلاتی نظام ایک غیر معمولی مالی ذمہ داری ہے۔ جس صوبے کا رقبہ وسیع ہو، وہاں سڑک، پل، ریلوے، مواصلاتی ذرائع اور بنیادی سہولتوں کو دور دراز آبادیوں تک پہنچانے کی لاگت بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر وسائل کی تقسیم میں اس جغرافیائی حقیقت کو نظر انداز کیا جائے تو بڑے رقبے والے صوبے بنیادی ڈھانچے کے اعتبار سے مسلسل پیچھے رہیں گے اور دور دراز علاقوں کو مرکزی شہروں سے ملانا مشکل ہوتا جائے گا۔ اس لیے صوبائی وسائل کی تقسیم میں ایک باقاعدہ **رقبہ و مواصلاتی ضرورت کا حصہ مقرر کیا جائے، تاکہ وسیع رقبے والے صوبوں کو سڑکوں اور رابطہ نظام کی تعمیر کے لیے ان کی حقیقی ضرورت کے مطابق وسائل مل سکیں۔ اس طرح وفاق بھی مضبوط ہوگا اور صوبوں کے اندر پسماندہ علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کا عمل بھی تیز ہوگا۔
وفاقی سطح پر پنجاب، سندھ، خیبرپشتونخوا، بلوچستان، سرائیکی خطے، کشمیر اور گلگت بلتستان کے سیاسی و معاشی مفادات کو زیادہ متوازن نمائندگی دینے کے لیے قومی اتفاقِ رائے سے ایسا نظام تشکیل دیا جاسکتا ہے جو کسی قوم کو دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے سب کو ریاست کا برابر کا شراکت دار بنائے۔ آمدن اور وسائل کی تقسیم کے لیے واضح، قابلِ حساب اور شفاف اصول مقرر کیے جائیں تاکہ شکایت، محرومی اور بداعتمادی کی گنجائش کم سے کم ہو۔
یہ منصوبہ صرف پشتون اور بلوچ علاقوں کی ترقی کا منصوبہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کی معاشی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پنجاب کی صنعت کو بلوچستان کی معدنیات، سندھ کی بندرگاہوں کو پشتون علاقوں کی تجارت، گوادر کو ملک کے صنعتی مراکز، خیبرپشتونخوا کو افغانستان اور وسطی ایشیا کی منڈیوں اور پورے پاکستان کو چین کے تجارتی راستوں سے جوڑ دیا جائے تو معاشی خوشحالی کسی ایک صوبے یا قوم کی میراث نہیں رہے گی۔ چین سے گوادر اور تفتان تک ریلوے، تفتان سے پشاور تک ریلوے کوریڈور، گوادر سے ملک کے اندرونی علاقوں تک جدید شاہراہیں اور صنعتی زون مل کر پاکستان کو ایک ایسے معاشی مرکز میں تبدیل کرسکتے ہیں جہاں تجارت سرحدوں سے آگے بڑھ کر روزگار اور خوشحالی پیدا کرے۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم محرومی کے جواب میں مزید محرومی نہیں بلکہ تعلیم کے بدلے جہالت، صنعت کے بدلے بے روزگاری، سڑک اور ریلوے کے بدلے تنہائی، اختیار کے بدلے بے بسی اور تجارت کے بدلے غربت کا خاتمہ کریں۔ جہاں نوجوان کو معیاری تعلیم، ہنر اور روزگار ملے گا، جہاں اپنے وسائل میں اپنا جائز حصہ نظر آئے گا، جہاں بازار اور صنعت تک رسائی ہوگی اور جہاں ریاست انصاف اور برابری کے ساتھ کھڑی ہوگی، وہاں امن بھی مضبوط ہوگا اور ریاست سے وابستگی بھی۔ پاکستان کی پائیدار طاقت صرف اس کی دفاعی صلاحیت میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ اس کا ہر شہری خود کو ریاست کا برابر کا شریک اور اس کے مستقبل کا حصہ دار محسوس کرے۔ یہی راستہ پشتون، بلوچ، پنجابی، سندھی، سرائیکی، کشمیری، گلگتی بلتی اور پاکستان کے ہر شہری کے لیے امن، عزت، روزگار اور خوشحالی کا مشترکہ مستقبل تعمیر کرسکتا ہے۔
