انیس اگست افغانستان کے لیے محض ایک قومی دن نہیں بلکہ اس طویل تاریخی جدوجہد کی علامت ہے جس میں افغان قوم نے اپنی سیاسی خودمختاری کے تحفظ کے لیے بڑی طاقتوں کا مقابلہ کیا۔ 1919ء میں امیر امان اللہ خان کے دور میں تیسری افغان جنگ کے بعد راولپنڈی معاہدے کے ذریعے برطانیہ نے افغانستان کی خارجہ پالیسی پر اپنے سابق اثر کو ختم کرتے ہوئے افغان خودمختاری کو تسلیم کیا۔ لیکن افغانستان کی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ بیرونی طاقتوں کی بالادستی کا سلسلہ صرف برطانوی دور تک محدود نہیں رہا۔ افغانستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث برطانوی ہند، روسی سلطنت، سوویت یونین، امریکہ اور دیگر علاقائی طاقتوں کے مفادات کا میدان بنتا رہا۔ 1979ء میں سوویت فوجی مداخلت، اس کے خلاف طویل جنگ، سوویت انخلا کے بعد داخلی خانہ جنگی، طالبان کا عروج، 2001ء کے بعد امریکی و نیٹو مداخلت اور 2021ء میں طالبان کی دوبارہ واپسی، سب اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان کا مسئلہ صرف بیرونی جارحیت نہیں بلکہ اندرونی سیاسی کمزوری، ادارہ جاتی عدم استحکام اور عالمی طاقتوں کی باہمی کشمکش کا مجموعہ بھی رہا ہے۔ افغانستان کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ نصف صدی سے زیادہ عرصے کی مسلسل جنگ، لاکھوں انسانوں کی ہلاکت، وسیع پیمانے پر ہجرت اور مختلف بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے باوجود اس کی جغرافیائی وحدت بڑی حد تک برقرار رہی۔ اس کا سبب صرف کسی ایک حکمران یا ایک سیاسی حکمت عملی کو قرار دینا تاریخی طور پر درست نہیں ہوگا۔ اس کے پیچھے افغان معاشرے کی مقامی شناختیں، قبائلی و علاقائی رشتے، مذہبی وابستگیاں، قومی خودمختاری کا مضبوط تصور اور بیرونی تسلط کے خلاف مشترکہ مزاحمت کا جذبہ موجود رہا۔ تاہم اس اتحاد کے ساتھ ایک بڑا تضاد بھی رہا: افغان معاشرہ اپنی سرزمین کے دفاع میں متحد ہوا لیکن اقتدار، ریاستی اداروں اور مستقبل کے سیاسی نظام پر اتفاق پیدا کرنے میں بار بار ناکام رہا۔ عالمی بینک بھی افغانستان کی کمزوریوں میں کمزور ریاستی اداروں، ناقص حکمرانی، سرپرستی پر مبنی سیاست، بدعنوانی، داخلی تنازعات اور بیرونی پراکسی کشمکش کو نمایاں عوامل قرار دے چکا ہے۔ آزادی کے بعد افغانستان کی سب سے بڑی خامی یہ رہی کہ قومی خودمختاری کو جدید ریاستی طاقت، مضبوط معیشت، تعلیم، صنعت، ٹیکنالوجی اور مستحکم اداروں میں پوری طرح تبدیل نہیں کیا جاسکا۔ افغان قوم نے جنگ جیتنے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، مگر جنگ کے بعد ریاست تعمیر کرنے کا مرحلہ مسلسل بحران کا شکار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی طاقتیں فوجی قبضے میں ناکام ہونے کے باوجود سیاسی، معاشی اور سفارتی اثرانداز ہونے کے مواقع حاصل کرتی رہیں۔ 1979ء کے بعد طویل جنگ نے افغانستان سے کروڑوں انسانوں کو اندرون و بیرون ملک بے گھر کیا؛ عالمی بینک کے مطابق سوویت مداخلت کے بعد پاکستان اور ایران کی طرف افغان مہاجرت دنیا کے بڑے طویل المدت نقل مکانی کے بحرانوں میں تبدیل ہوگئی۔
آج افغانستان کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ وہ مزید کتنی جنگ لڑ سکتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ امن کو ریاستی طاقت میں، آزادی کو معاشی خودمختاری میں اور قومی وحدت کو جدید اداروں میں کیسے تبدیل کرتا ہے۔ اکیسویں صدی میں کسی ملک کی طاقت صرف توپ، بندوق اور پہاڑوں سے نہیں ناپی جاتی۔ اصل طاقت معیاری تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، خواتین اور مردوں کی پیداواری صلاحیت، مضبوط عدلیہ، شفاف انتظامیہ، جدید زراعت، معدنی وسائل کی منصفانہ ترقی، علاقائی تجارت، بین الاقوامی سفارت کاری اور قانون کی بالادستی سے پیدا ہوتی ہے۔ افغانستان کو اپنی روایتی اقدار اور مذہبی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تعلیم، تحقیق، طب، انجینئرنگ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور صنعتی مہارت کے دروازے کھولنا ہوں گے۔ دنیا سے کٹ کر کوئی ملک خودمختار نہیں بنتا؛ حقیقی خودمختاری یہ ہے کہ ملک دنیا سے تعلق رکھے مگر اپنے فیصلے اپنے مفاد میں کرے۔افغانستان کو یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ اس کی جغرافیائی حیثیت اس کی کمزوری نہیں بلکہ مستقبل کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتی ہے۔ وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، ایران اور چین کے درمیان واقع افغانستان اگر جنگی گزرگاہ کے بجائے تجارتی پل بن جائے تو یہی جغرافیہ اس کے لیے دولت اور ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ 2025ء میں پاکستان کے ساتھ سرحدی رکاوٹوں کے باوجود افغان تجارت نے ایران اور وسطی ایشیا کے متبادل راستوں کی طرف رخ کیا، جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ افغانستان اپنے تجارتی راستوں کو متنوع بنانے کی کوشش کررہا ہے؛ لیکن پاکستان اب بھی اس کے لیے سمندر تک مختصر ترین راستوں میں سے ایک ہے۔ اس لیے کابل اور اسلام آباد دونوں کو تصادم کے بجائے باہمی معاشی مفاد کی بنیاد پر تعلقات کی نئی عمارت تعمیر کرنی چاہیے۔پاکستان کے لیے بھی افغانستان کو صرف سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھنا ایک محدود سوچ ہوگی۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی، تاریخی، ثقافتی، لسانی، قبائلی اور تجارتی رشتے سرحدی لکیر سے کہیں پرانے ہیں۔ موجودہ کشیدگی، سرحدی بندشوں اور سکیورٹی خدشات نے دونوں جانب کے عام لوگوں، تاجروں اور خاندانوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ ایسا خصوصی پاک افغان معاشی و عوامی رابطہ نظام تجویز کرنا چاہیے جس میں سکیورٹی کے جائز تقاضوں کو برقرار رکھتے ہوئے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں، تاجروں، طلبہ، مریضوں اور خاندانوں کے لیے آسان اور تیز رفتار آمدورفت کا نظام قائم ہو۔
خاص طور پر پشتون آبادی کے دونوں جانب پھیلے ہوئے تاریخی رشتوں کو محض سرحدی کاغذات کی پیچیدگیوں میں قید کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ تاہم بین الاقوامی سرحد کے مکمل خاتمے یا عام طور پر بغیر پاسپورٹ آمدورفت کا تصور موجودہ ریاستی نظام میں عملی طور پر آسان نہیں۔ اس کے بجائے پاکستان اور افغانستان یورپی سرحدی سہولتوں سے متاثر ایک خصوصی سرحدی انتظام تشکیل دے سکتے ہیں، جس میں مستند شناخت رکھنے والے سرحدی اضلاع کے باشندوں کو آسان اجازت نامہ، متعدد بار آمدورفت، تاجروں کے لیے خصوصی تجارتی کارڈ، خاندانوں کے لیے سرحدی سفری سہولت اور مخصوص راہداریوں میں تیز رفتار کسٹمز نظام فراہم کیا جائے۔ یوں سکیورٹی بھی برقرار رہے اور پشتون خاندانوں، تاجروں اور کاروباری طبقات کے تاریخی تعلقات بھی بحال ہوں۔یہ سہولت صرف پشتونوں کے لیے کسی نسلی امتیاز کے طور پر نہیں بلکہ مشترکہ سرحدی خطے کے عوام کے لیے خصوصی علاقائی انتظام کی بنیاد پر ہونی چاہیے، تاکہ اسے بین الاقوامی قانون، دونوں ممالک کی خودمختاری اور سکیورٹی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاسکے۔ یورپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ مضبوط ریاستیں اپنی سرحدوں کو ختم کیے بغیر بھی لوگوں، تجارت اور کاروبار کے لیے سرحدی رکاوٹیں کم کرسکتی ہیں۔ پاکستان اور افغانستان بھی اپنے مخصوص حالات کے مطابق ایسا ماڈل تشکیل دے سکتے ہیں۔
انیس اگست کا پیغام یہی ہونا چاہیے کہ افغان قوم نے بیرونی طاقتوں کے سامنے اپنی آزادی کا دفاع تو کرلیا، اب اسے غربت، جہالت، سیاسی عدم استحکام، معاشی انحصار اور ادارہ جاتی کمزوری کے خلاف جنگ جیتنی ہے۔ افغانستان کو جنگ کے میدان سے علم، تجارت، صنعت اور علاقائی تعاون کے مرکز میں تبدیل ہونا ہوگا۔ پاکستان کو بھی ماضی کی باہمی بداعتمادی سے نکل کر افغانستان کے ساتھ عزت، خودمختاری، باہمی سلامتی اور مشترکہ معاشی مفاد کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے ہوں گے۔ اگر کابل اور اسلام آباد یہ سمجھ لیں کہ ایک کی ترقی دوسرے کی شکست نہیں بلکہ دونوں کی مشترکہ کامیابی ہے تو پاک افغان سرحد تنازع اور فاصلے کی علامت کے بجائے تجارت، ثقافت، امن اور خوشحالی کی شاہراہ بن سکتی ہے۔ یہی اکیسویں صدی میں آزادی کا حقیقی مفہوم اور یومِ استقلال افغانستان کا سب سے بڑا سبق ہے۔
