اداریہ ۱۴ اگست ۲۰۲۶

گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کا عمر نہیں، کردار دیکھا جائے۔

امریکہ میں نوجوانوں اور مصنوعی ذہانت کے موضوع پر منعقد ہونے والے عالمی اجلاس میں گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل کی شرکت کو بعض حلقوں کی جانب سے جس انداز میں متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ دراصل تنقید سے زیادہ تعصب کا اظہار دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ گورنر کی عمر کیا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ وہاں کس حیثیت سے گئے تھے۔ وہ کسی نوجوان کا روپ دھار کر نہیں بلکہ بلوچستان کے آئینی منصب کے نمائندے کی حیثیت سے ایک ایسے اجتماع میں شریک ہوئے جہاں بلوچستان، پاکستان اور نوجوان نسل کے مستقبل سے متعلق بات چیت ہورہی تھی۔ 12 اگست 2026 کے اجلاس کے دستیاب سرکاری حوالوں میں بھی ان کا تعارف واضح طور پر گورنر بلوچستان کے طور پر کیا گیا ہے۔

دنیا کے کسی بھی سنجیدہ فورم میں نوجوانوں کے موضوع پر صرف نوجوان ہی بات نہیں کرتے۔ استاد نوجوان نہیں ہوتا مگر نوجوانوں کو تعلیم دیتا ہے، والد نوجوان نہیں ہوتا مگر نئی نسل کی تربیت کرتا ہے، پالیسی ساز نوجوان نہیں ہوتا مگر نوجوانوں کے مستقبل کے فیصلے کرتا ہے۔ اسی طرح ایک بزرگ سیاسی و انتظامی شخصیت کا نوجوانوں کے اجلاس میں شریک ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ نئی نسل کو اہمیت دے رہی ہے۔ اگر عمر ہی کسی شخص کو نوجوانوں کے مسائل پر بات کرنے سے نااہل قرار دے دے تو پھر دنیا بھر میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ، ماہرین، سرپرستوں، پالیسی سازوں اور حکومتی نمائندوں کی نوجوانوں سے متعلق تمام سرگرمیاں بھی قابلِ اعتراض قرار دینا پڑیں گی۔

شیخ جعفر خان مندوخیل کے معاملے میں تو یہ اعتراض مزید کمزور ہوجاتا ہے کیونکہ نوجوانوں کی تعلیم، ہنرمندی، روزگار اور جدید ٹیکنالوجی سے متعلق ان کا مؤقف محض امریکہ کے ایک اجلاس تک محدود نہیں۔ رواں سال انہوں نے بلوچستان کے بجٹ میں نوجوانوں کی تعلیم، ہنر اور روزگار کو ترجیح دینے کی بات کی، جبکہ صوبے میں فنی تربیت اور بیرونِ ملک روزگار کے پروگرام بھی جاری ہیں۔ یونیورسٹیوں میں مصنوعی ذہانت کے نصاب، تحقیق اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ پر بھی انہوں نے زور دیا ہے۔

اس لیے یہ کہنا کہ ایک عمر رسیدہ شخص نوجوانوں کے پروگرام میں کیسے شریک ہوگیا، دراصل اصل موضوع سے فرار ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ وہاں بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے کیا آواز اٹھائی گئی، پاکستان کے نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں کیا مؤقف پیش کیا گیا اور عالمی سطح پر بلوچستان کی نمائندگی کس انداز میں ہوئی۔ اگر کسی کو تقریر کے مندرجات، سرکاری اخراجات، دعوت نامے، نمائندگی کے طریقہ کار یا اجلاس کے نتائج پر اعتراض ہے تو وہ دستاویزی بنیاد پر سوال اٹھائے؛ عمر کو بنیاد بنا کر کسی آئینی عہدے دار کی کردارکشی کرنا دلیل نہیں۔

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں بعض اوقات شخصیت سے اختلاف کو دلیل کے بجائے تمسخر کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے۔ اگر یہی معیار قائم کرلیا جائے کہ نوجوانوں سے متعلق کسی فورم پر صرف نوجوان ہی شریک ہوسکتے ہیں تو پھر وزیر، گورنر، سفیر، استاد، ماہر تعلیم اور پالیسی ساز سب نوجوانوں کے معاملات سے باہر ہوجائیں گے۔ نوجوانوں کا مسئلہ نوجوانوں کی ملکیت ضرور ہے، مگر ان کے مستقبل کی ذمہ داری پوری نسل کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

شیخ جعفر خان مندوخیل کی عمر اگر تقریباً ستر برس ہے تو اسے ان کی کمزوری کے طور پر پیش کرنا بھی ایک عجیب رویہ ہے۔ **تجربہ عمر سے آتا ہے اور مستقبل نوجوان بناتے ہیں؛ ایک صحت مند معاشرہ ان دونوں کو ایک دوسرے کا متبادل نہیں بلکہ تکمیل سمجھتا ہے۔lنوجوانوں کو صرف نوجوان چہرے نہیں، تجربہ کار رہنمائی بھی درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے گورنر بلوچستان کا نوجوانوں کے عالمی فورم میں شریک ہونا بذاتِ خود کوئی مضحکہ خیز واقعہ نہیں بلکہ اسے بلوچستان کی نمائندگی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

تنقید ضرور ہونی چاہیے، مگر تنقید میں بھی معیار، دلیل اور دیانت ضروری ہے۔ اگر کسی نے گورنر کے پروگرام، تقریر یا حکومتی پالیسی سے اختلاف کرنا ہے تو کھل کر کرے۔ لیکن صرف عمر کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینا کہ وہ نوجوانوں کے پروگرام میں ’’نوجوان بن کر‘‘ گئے تھے، ایک ایسا مفروضہ ہے جس کی بنیاد ہی کمزور ہے۔

بلوچستان کو اس وقت شخصیتوں کی تضحیک نہیں، نسلوں کے درمیان رابطے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو تجربہ بھی چاہیے اور مواقع بھی؛ اور بزرگ نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تجربے کو نئی نسل کے مستقبل کے لیے استعمال کرے۔ یہی اصل بحث ہے، باقی سب شور ہے۔