اداریہ ۱۳ اگست ۲۰۲۶

پاکستان: قراردادِ لاہور سے ~ایک نئے وفاق تک

پاکستان محض ایک خطۂ زمین~ کا نام نہیں بلکہ برصغیر کے مسلمانوں کی ایک طویل سیاسی جدوجہد، قربانیوں اور ایک بہتر اجتماعی مستقبل کے خواب کی تعبیر ہے۔ بانی پاکستان محمد علی جناح کے چودہ نکات نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق، صوبائی خودمختاری اور وفاقی برابری کی بنیاد رکھی، جبکہ 23 مارچ 1940ء کی قراردادِ لاہور نے مسلم اکثریتی علاقوں کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک نئے آئینی تصور کو جنم دیا۔ 1947ء میں پاکستان قائم ہوا تو اس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج مختلف قومیتوں، زبانوں، علاقوں اور تہذیبوں کو ایک ایسے وفاق میں جوڑنا تھا جہاں کسی اکائی کو محکوم اور کسی کو حاکم محسوس نہ ہو۔آج تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے بعد یہ سوال دوبارہ پوری شدت سے ہمارے سامنے ہے کہ کیا پاکستان اپنے قیام کے بنیادی تصور کو موجودہ زمانے کے تقاضوں کے مطابق ایک نئے وفاقی عمرانی معاہدے میں تبدیل کرسکتا ہے؟ بلوچ، پنجابی، سندھی، سرائیکی، اردو بولنے والے، پشتون، کشمیری اور گلگت بلتستان کے عوام اپنی اپنی تاریخ، زبان، ثقافت اور جغرافیائی شناخت رکھتے ہیں، لیکن ان سب کا مشترکہ مفاد ایک ایسا پاکستان ہے جہاں ۔

پاکستان کو اب اس تصور سے آگے بڑھنا ہوگا کہ مضبوط وفاق کا مطلب مضبوط مرکز ہے۔ حقیقی مضبوط وفاق وہ ہوتا ہے جس کی اکائیاں اپنے حقوق کے بارے میں مطمئن، اپنے وسائل کے بارے میں بااختیار اور اپنے مستقبل کے بارے میں پراعتماد ہوں۔ جس وفاق میں محرومی بڑھتی رہے وہاں مرکز وقتی طور پر طاقتور دکھائی دے سکتا ہے، مگر ریاست اندر سے کمزور ہوتی جاتی ہے۔

پاکستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب سیاسی حقوق، صوبائی خودمختاری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا سوال نظرانداز کیا گیا تو وفاقی اکائیوں میں بے اعتمادی پیدا ہوئی۔ 1971ء کا سانحہ اس حقیقت کا سب سے بڑا تاریخی سبق ہے کہ محض جغرافیہ کسی ملک کو متحد نہیں رکھ سکتا؛ *انصاف، برابری اور سیاسی شراکت ہی ریاستوں کو متحد رکھتے ہیں۔آج بلوچستان کے عوام قدرتی وسائل، زمین، معدنیات، ساحل اور ترقیاتی منصوبوں میں اپنے حق کی بات کرتے ہیں۔ سندھ پانی، گیس، تیل، بندرگاہوں اور مالی وسائل میں منصفانہ حصہ چاہتا ہے۔ خیبرپشتونخوا اور پشتون علاقوں کے عوام امن، روزگار، معدنی وسائل، تجارت اور سرحدی معیشت کے حوالے سے اپنے اختیارات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سرائیکی خطہ اپنی انتظامی، سیاسی اور معاشی شناخت کا سوال اٹھاتا ہے۔ گلگت بلتستان اپنے آئینی، سیاسی اور معاشی مستقبل کے واضح تعین کا خواہاں ہے، جبکہ کشمیر کا مسئلہ اپنی الگ تاریخی اور بین الاقوامی حیثیت رکھتا ہے۔ پنجاب، جو آبادی اور معیشت کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کے عوام بھی ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان کے خواہاں ہیں۔اس پورے منظرنامے کو محض صوبائیت، قوم پرستی یا مرکز مخالف سیاست قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ *حقوق کا مطالبہ ریاست کے خلاف نہیں ہوتا؛ اگر اسے آئینی اور جمہوری راستہ دیا جائے تو یہی مطالبہ وفاق کو مضبوط کرتا ہے۔وسائل پر اختیار کا مطلب یہ نہیں کہ ہر اکائی اپنے قدرتی وسائل کو قومی مفاد سے الگ کردے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس خطے سے گیس، تیل، معدنیات، پانی، بجلی، ساحلی وسائل یا دیگر قدرتی دولت حاصل ہوتی ہے، وہاں کے لوگوں کو اس کی منصوبہ بندی، نگرانی، آمدنی اور ترقیاتی فوائد میں واضح اور مؤثر حصہ حاصل ہو۔ قومی وسائل کا تصور اپنی جگہ درست ہے، لیکن قومی مفاد کی تعریف میں مقامی آبادی کا حق بھی شامل ہونا چاہیے۔
اسی طرح نئی حد بندی کا سوال بھی محض نقشے بدلنے کا مسئلہ نہیں۔ اگر انتظامی حدود، صوبائی ڈھانچے یا نئے انتظامی یونٹ بنائے جائیں تو ان کا مقصد کسی قوم کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ انتظامی سہولت، سیاسی نمائندگی، معاشی ترقی اور عوامی اختیار بڑھانا ہونا چاہیے۔ ہر نئی حد بندی آئینی اتفاقِ رائے، عوامی مشاورت اور شفاف جمہوری عمل کے ذریعے ہونی چاہیے۔

پاکستان کے لیے سب سے بڑی ضرورت ایک نئے وفاقی عمرانی معاہدے کی ہے۔ ایسا معاہدہ جس میں بلوچ، پنجابی، سندھی، سرائیکی، پشتون، اردو بولنے والے، کشمیری اور گلگت بلتستان کے عوام اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی مشترکہ قومی شناخت کا حصہ بنیں۔اس نئے وفاق کا پہلا اصول برابری کا وقار ہونا چاہیے۔ آبادی کسی صوبے کی سیاسی اہمیت کا ایک پیمانہ ہوسکتی ہے، مگر ریاستی وقار، آئینی حقوق اور شہری عزت کا پیمانہ نہیں۔ بڑے صوبے کو اس کی آبادی کے مطابق نمائندگی ملے، لیکن چھوٹی اکائیوں کو اس خوف میں مبتلا نہ کیا جائے کہ عددی اکثریت ان کے سیاسی، ثقافتی یا معاشی حقوق کو نگل جائے گی۔دوسرا اصول وسائل میں شراکت اور اختیار ہونا چاہیے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان قدرتی وسائل، پانی، معدنیات، بجلی، گیس اور دیگر آمدنی کے حوالے سے ایسا شفاف نظام تشکیل دیا جائے جس میں پیدا کرنے والے علاقے کو واضح حصہ، مقامی آبادی کو روزگار اور ترقی کا حق، اور پورے پاکستان کو قومی فائدہ حاصل ہو۔تیسرا اصول انتظامی اور سیاسی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہونا چاہیے۔ اگر اختیار اسلام آباد سے صوبائی دارالحکومت اور صوبائی دارالحکومت سے چند بڑے شہروں تک محدود رہے تو وفاقی نظام کا اصل مقصد پورا نہیں ہوسکتا۔ اضلاع، مقامی حکومتوں اور عوامی اداروں کو مالی اور انتظامی اختیار دینا ہوگا۔چوتھا اصول معاشی انصاف ہے۔ پاکستان کو محض وسائل تقسیم کرنے والی ریاست کے بجائے وسائل پیدا کرنے والی ریاست بنانا ہوگا۔ بلوچستان کی معدنیات، سندھ کی بندرگاہیں اور توانائی، خیبرپشتونخوا کی آبی و معدنی صلاحیت، پنجاب کی زراعت و صنعت، سرائیکی وسیب کی زرعی استعداد، گلگت بلتستان کی آبی و سیاحتی صلاحیت اور آزاد کشمیر کی قدرتی دولت کو قومی ترقی کے مربوط منصوبے میں شامل کیا جائے، مگر مقامی آبادی کو محض تماشائی نہ بنایا جائے۔پانچواں اصول زبان، ثقافت اور شناخت کا احترام ہونا چاہیے۔ پاکستان کی خوبصورتی یہ نہیں کہ یہاں سب ایک زبان بولیں یا ایک ثقافت اختیار کریں؛ اس کی اصل قوت یہ ہے کہ مختلف زبانیں، ثقافتیں اور تہذیبی روایات ایک مشترکہ ریاستی شناخت کے اندر عزت کے ساتھ زندہ رہیں۔ پشتو، بلوچی، براہوی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، اردو، کشمیری، شینا، بلتی اور دیگر زبانیں پاکستان کی کمزوری نہیں بلکہ اس کا تہذیبی سرمایہ ہیں۔پاکستان کو اسلامی دنیا میں بھی اپنا کردار نئے انداز سے متعین کرنا ہوگا۔ سعودی عرب، ترکیہ، ایران اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو کسی ایک ملک کے خلاف صف بندی کے بجائے امن، تجارت، دفاع، تعلیم، ٹیکنالوجی اور باہمی ترقی کا ذریعہ بنایا جائے۔ پاکستان کو مسلم دنیا میں محاذ آرائی کا فریق نہیں بلکہ مفاہمت کا پل بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

لیکن اکیسویں صدی کا پاکستان صرف اسلامی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا کافی نہیں؛ اسے نئی دنیا کے تقاضوں کو بھی سمجھنا ہوگا۔ مصنوعی ذہانت، جدید صنعت، پانی کا بحران، موسمیاتی تبدیلی، سائبر دنیا، قابلِ تجدید توانائی، علم پر مبنی معیشت اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی مستقبل کے اصل چیلنج ہیں۔ پاکستان اگر داخلی اختلافات میں الجھا رہا تو دنیا علم، ٹیکنالوجی اور معیشت کے نئے مرحلے میں اس سے بہت آگے نکل جائے گی۔اس لیے آج ضرورت کسی ایک قوم کی فتح یا کسی دوسرے خطے کی شکست کی نہیں بلکہ **ایسے پاکستان کی تعمیر کی ہے جس میں ہر اکائی کو یہ احساس ہو کہ یہ ریاست اس کی بھی ہے، اس کے وسائل پر اس کا بھی حق ہے، اس کی زبان اور ثقافت قابلِ احترام ہے اور وفاق میں اس کا وقار دوسروں سے کم نہیں۔
اگر قراردادِ لاہور نے مسلم اکثریتی علاقوں کے سیاسی مستقبل کا تصور پیش کیا تھا، تو آج کی تاریخی ضرورت یہ ہے کہ پاکستان کے تمام باشندوں کے لیے ایک ایسا نیا وفاقی معاہدہ تشکیل دیا جائے جس میں برابری، خوداختیاری، وسائل میں شراکت، آئینی تحفظ، معاشی انصاف اور مشترکہ قومی مفاد بنیادی اصول ہوں۔ایک خوشحال پاکستان وہ نہیں ہوگا جہاں صرف مرکز مضبوط ہو؛ خوشحال پاکستان وہ ہوگا جہاں *بلوچستان خوشحال ہو، سندھ خوشحال ہو، پنجاب خوشحال ہو، خیبرپشتونخوا اور پشتون علاقے خوشحال ہوں، سرائیکی وسیب خوشحال ہو، کشمیر اور گلگت بلتستان خوشحال ہوں، اور ہر زبان بولنے والا شہری اپنے وطن میں برابر کے وقار کے ساتھ کھڑا ہو۔
یہی وہ پاکستان ہوگا جو اپنے بانی کے سیاسی خواب، قراردادِ لاہور کے وفاقی تصور اور موجودہ دنیا کے نئے تقاضوں کو یکجا کرسکے گا۔پاکستان کو اب صرف زندہ رکھنے کی نہیں، اسے انصاف، اختیار، علم، معیشت اور قومی اتحاد کے ذریعے خوشحال بنانے کی ضرورت ہے۔