کوئٹہ(صداقت انٹرنیشنل ویب نیوز )پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام پارٹی کے عظیم رہنما اور ممتاز دانشور عبدالرحیم خان مندوخیل کی نویں برسی کے موقع پر لیاقت پارک کوئٹہ میں ایک عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا، جس میں ہزاروں کارکنوں اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔ جلسے میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور پشتونخوا وطن کے حقوق سے متعلق اہم قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ شرکا نے فارم 47 کے تحت قائم حکومت اور 26 ویں و 27 ویں آئینی ترامیم سمیت پیکا ایکٹ کو وفاقی اکائیوں کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور مطالبہ کیا کہ ملک میں فوری طور پر شفاف انتخابات کے ذریعے اقتدار حقیقی عوامی نمائندوں کو منتقل کیا جائے۔قراردادوں میں سبی سے لے کر چترال تک پشتونخوا کے نام سے متحدہ قومی صوبے کے قیام اور وسائل کی برابری کی بنیاد پر تقسیم کا مطالبہ کیا گیا۔ جلسے میں بانی پی ٹی آئی، علی وزیر، ماہ رنگ بلوچ اور دیگر سیاسی کارکنوں کی رہائی سمیت لاپتہ انجینئر صادق خان خجک کی فوری بازیابی پر زور دیا گیا۔ مزید برآں، چمن دھرنے کے مطالبات کی حمایت، سرحدی تجارتی راستوں کی بحالی اور ڈیورنڈ لائن کے اطراف آباد عوام کی زبردستی بے دخلی کی مخالفت کی گئی۔ جلسے کے آخر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور قومی شاہراہوں پر مسافروں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ پشتونخوا وطن کے وسائل اور حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
