گوادر (صداقت انٹرنیشنل ویب نیوز )سابق صوبائی وزیر میر حمل کلمتی نے پارٹی رہنماں ماجد سہرابی، کہدہ علی، عارفہ عبداللہ اور دیگر کے ہمراہ گوادر پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کنٹانی بارڈر پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کوسٹ گارڈز کی مبینہ فائرنگ سے دو بے گناہ افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کا واقعہ غیر ضروری طاقت کا استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس نے پورے ضلع میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔میر حمل کلمتی نے واضح کیا کہ کنٹانی ھور کا علاقہ مقامی لوگوں کے لیے محض جغرافیہ نہیں بلکہ ان کے روزگار کا واحد ذریعہ ہے، جہاں صدیوں سے لوگ سرحدی تجارت سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے موجودہ رکن اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی تجارت کو سیاسی نعرہ بنانے والوں کے دور میں حالات مزید خراب ہو چکے ہیں۔ سابق وزیر نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرا کے شہدا کے لواحقین کو انصاف اور معاوضہ دیا جائے، بصورتِ دیگر بلوچستان نیشنل پارٹی احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے حکومت اور اداروں پر زور دیا کہ مقامی اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے سرحدی تجارت کے لیے واضح اور مستقل پالیسی مرتب کی جائے تاکہ عوام کا معاشی استحصال بند ہو۔
