اداریہ ۱۲ اگست ۲۰۲۶

بابڑہ کے شہداء کو قومی شہداء تسلیم کیا جائے

12 اگست 1948 کا بابڑہ سانحہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، ریاست اور شہری کے تعلق کا ایک اہم امتحان تھا۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان ماضی کے اس المناک باب کو سیاسی اختلاف کے بجائے قومی مفاہمت کے نقطۂ نظر سے دیکھے۔

پاکستان کی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی اہمیت نہیں کھوتے، بلکہ ہر نئی نسل کے سامنے یہ سوال رکھتے ہیں کہ ریاست اپنے ماضی کے ساتھ کس طرح انصاف کرتی ہے۔ 12 اگست 1948 کا بابڑہ سانحہ بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ چارسدہ کے بابڑہ کے مقام پر خدائی خدمتگار تحریک سے وابستہ غیر مسلح افراد کے اجتماع پر فائرنگ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ اس سانحے میں شہید ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں سرکاری اور غیر سرکاری ریکارڈ میں واضح اختلاف موجود ہے؛ سرکاری اعداد انتہائی کم ہیں، جبکہ خدائی خدمتگار تحریک اور بعض تاریخی حوالوں میں شہداء کی تعداد سینکڑوں میں بیان کی گئی ہے۔ یہی اختلاف اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ ریاست اس واقعے کی غیر جانب دار، دستاویزی اور جامع تاریخی تحقیق کرائے، تمام دستیاب سرکاری ریکارڈ، اخباری رپورٹس، عینی شاہدین کے بیانات اور تاریخی دستاویزات کو یکجا کرے اور قوم کے سامنے مستند حقیقت پیش کرے۔ بابڑہ کے سانحے کا سب سے بڑا المیہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع نہیں تھا بلکہ یہ بھی تھا کہ ایک نئے ملک کے قیام کے فوراً بعد شہریوں کے سیاسی اختلاف، احتجاج اور بنیادی حقوق کے سوال کو طاقت کے ذریعے دبانے کا تاثر پیدا ہوا۔ اس واقعے نے پشتون معاشرے میں ریاستی رویوں کے بارے میں گہرے شکوک پیدا کیے اور آنے والی نسلوں کے سیاسی شعور پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔

بابڑہ سانحے کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ قیام پاکستان کے بعد صوبہ سرحد میں سیاسی اختلافات، حکومت کی تبدیلی، خدائی خدمتگار تحریک کے خلاف کارروائیاں، رہنماؤں کی گرفتاریوں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں نے حالات کو کشیدہ کیا۔ ایسے ماحول میں احتجاج کرنے والے افراد پر فائرنگ نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اگر ریاستی طاقت کا استعمال شہریوں کے خلاف ہو اور اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہوں تو اس کا نقصان صرف متاثرہ خاندانوں تک محدود نہیں رہتا؛ اس سے ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد، سیاسی شمولیت، جمہوری اقدار اور قومی یکجہتی بھی متاثر ہوتی ہے۔ بابڑہ کے متاثرین کے خاندانوں اور پشتون معاشرے کے ایک بڑے حصے کے لیے یہ واقعہ آج بھی ایک زندہ تاریخی یاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بھلا دینا مسئلے کا حل نہیں۔ تاریخ کو دبانے کے بجائے اسے تسلیم کرنا ہی قومی یکجہتی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ دنیا کی وہ قومیں جو اپنے تلخ ماضی کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں، وہی مستقبل میں ایسے واقعات کی تکرار روکنے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی راستے بناتی ہیں۔

یہاں حکومت پاکستان کے سامنے ایک تاریخی موقع موجود ہے۔ جس طرح ریاست نے ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی مقدمے اور پھانسی کے معاملے پر سپریم کورٹ کی رائے کو اہمیت دیتے ہوئے اسے عدالتی قتل کے طور پر تسلیم کرنے کی سمت ایک تاریخی پیش رفت کی، اسی طرح بابڑہ کے سانحے کے بارے میں بھی ریاست کو ماضی کی خاموشی توڑنی چاہیے۔ البتہ بابڑہ کے معاملے میں جذباتی یا سیاسی فیصلے کے بجائے ایک قومی تاریخی کمیشن تشکیل دیا جائے جو مکمل ریکارڈ کی بنیاد پر حقائق کی تصدیق کرے۔ اگر تحقیق سے یہ ثابت ہو کہ بابڑہ میں غیر مسلح شہری ریاستی فائرنگ کا نشانہ بنے اور جانیں ضائع ہوئیں تو حکومت پاکستان کو باضابطہ طور پر انہیں قومی شہداء تسلیم کرنا چاہیے۔ 12 اگست کو بابڑہ کے شہداء کا قومی یومِ یاد قرار دے کر ملک بھر میں سرکاری سطح پر تقریبات، سیمینارز اور تعلیمی پروگرام منعقد کیے جائیں، متاثرہ خاندانوں کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جائے اور بابڑہ میں ایک قومی یادگار قائم کی جائے۔ اس اقدام کو کسی جماعت، گروہ یا صوبے کی فتح کے طور پر نہیں بلکہ ریاست کی طرف سے اپنے شہریوں کے ساتھ تاریخی انصاف اور قومی مفاہمت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر حکومت پاکستان یہ قدم اٹھاتی ہے تو یہ صرف بابڑہ کے شہداء کو خراج عقیدت نہیں ہوگا بلکہ ریاستی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز بھی ہوسکتا ہے؛ ایسا دور جس میں ماضی کی غلطیوں کو چھپانے کے بجائے تسلیم کیا جائے، اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا جائے، شہری جانوں کو سیاسی وابستگی سے بالاتر سمجھا جائے اور ہر پاکستانی کو یہ یقین دلایا جائے کہ ریاست اپنے شہریوں کے دکھ اور قربانی کو فراموش نہیں کرتی۔ بابڑہ کو بھلانا تاریخ کو دفن کرنا ہے، جبکہ بابڑہ کے شہداء کو تسلیم کرنا قومی ضمیر کو زندہ کرنا ہے۔۔