اداریہ ۷ اگست ۲۰۲۶

بحرانِ نظام نہیں، بحرانِ حکمرانی اور ریاستی کارکردگی کا ہے

وفاقی وزیر داخلہ کے اس بیان نے کہ “ملک کا نظام ناکام ہو چکا ہے” ایک ایسی بحث کو جنم دیا ہے جسے محض سیاسی بیان قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر واقعی نظام مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ہے تو سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ ناکامی سے مراد کیا ہے، ذمہ دار کون ہیں اور اصلاح کی راہ کیا ہے؟ ایک ذمہ دار ریاستی عہدیدار سے قوم صرف تشخیص نہیں بلکہ علاج کی بھی توقع رکھتی ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ نظام ناکام ہے، کافی نہیں؛ یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ کون سے ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے اور انہیں مؤثر بنانے کے لیے کیا اقدامات درکار ہیں۔

اصل سوال نظام کے نام کا نہیں بلکہ اس پر عملدرآمد کا ہے۔ اگر مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے، تعلیم، صحت، زراعت، معیشت اور مقامی حکومتیں اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا نہیں کر رہیں تو اس کی نشاندہی بھی ہونی چاہیے اور اس کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز بھی سامنے آنی چاہئیں۔ آج بعض علاقوں میں صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ صرف رات نہیں بلکہ دن کے وقت بھی سفر احتیاط کا متقاضی سمجھا جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال کسی ایک ادارے کی نہیں بلکہ مجموعی حکمرانی کے معیار پر سوالیہ نشان ہے۔

اسی تناظر میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث بھی زور پکڑ رہی ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا انتظامی حدود بدل دینے سے مسائل حل ہو جائیں گے؟ اگر وہ ادارے جو موجودہ صوبائی ڈھانچے میں یکساں اور مؤثر حکمرانی قائم کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں، اپنی استعداد میں اضافہ کیے بغیر مزید انتظامی اکائیوں کا بوجھ اٹھائیں گے تو کیا نتائج مختلف ہوں گے؟ کسی بھی انتظامی تبدیلی سے پہلے ریاستی اداروں کی صلاحیت، شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔

یہ بھی غور طلب امر ہے کہ اگر زیادہ آبادی کو پسماندگی کی بنیادی وجہ قرار دیا جائے تو پھر یہ وضاحت ضروری ہے کہ ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ نسبتاً بہتر ترقیاتی اشاریے کیوں رکھتا ہے، جبکہ قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان آج بھی بنیادی سہولیات، روزگار، صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ اس حقیقت سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اصل مسئلہ آبادی یا جغرافیہ نہیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم، مؤثر منصوبہ بندی، شفاف حکمرانی اور پالیسیوں پر دیانت دارانہ عملدرآمد ہے۔

اسی طرح نظامِ حکومت کے بارے میں بھی سنجیدہ اور غیرجذباتی بحث کی ضرورت ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کسی بھی نظام کی کامیابی اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ، آئین کی پاسداری، اداروں کی مضبوطی اور قیادت کی صلاحیت سے وابستہ ہوتی ہے۔ پاکستان نے مختلف ادوار میں پارلیمانی اور صدارتی دونوں نظاموں کا تجربہ کیا ہے۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پارلیمانی دور میں ملک نے نہایت پیچیدہ سفارتی اور قومی چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا، جبکہ ایک مختلف دور میں ملک ایک بڑے قومی سانحے سے بھی دوچار ہوا۔ اس لیے مسئلہ کسی نظام کے عنوان کا نہیں بلکہ اس کے مؤثر، آئینی اور دیانت دارانہ نفاذ کا ہے۔ اگر ماضی میں ناکام ثابت ہونے والے تجربات کو دوبارہ آزمانے کی بات کی جاتی ہے تو پہلے یہ واضح کرنا ہوگا کہ ان سے مختلف نتائج کیسے حاصل کیے جائیں گے۔

ریاست کی مضبوطی کا انحصار نئے نعروں یا نئی انتظامی تقسیم پر نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی یکساں حکمرانی، آزاد اور مؤثر اداروں، وسائل کی منصفانہ تقسیم، مضبوط مقامی حکومتوں اور شفاف احتساب پر ہے۔ جب تک ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر جوابدہی کے ساتھ کام نہیں کرے گا، اس وقت تک محض نظام تبدیل کرنے یا نئے انتظامی ڈھانچے قائم کرنے سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسے آزاد قومی ادارہ جاتی جائزہ کمیشن کی ہے جو ہر سال ریاستی اداروں کی کارکردگی کا غیرجانبدارانہ جائزہ لے، خامیوں کی نشاندہی کرے اور اصلاحات کے لیے قابلِ عمل سفارشات پیش کرے۔ اسی طرح وسائل کی تقسیم، ترقیاتی منصوبوں، امن و امان، تعلیم، صحت اور معیشت کے شعبوں میں کارکردگی کو سیاسی وابستگی کے بجائے قومی مفاد کی بنیاد پر جانچا جائے۔ میڈیا کو بھی صرف بیانات کی تشہیر تک محدود رہنے کے بجائے عوامی مسائل، پالیسیوں کے نتائج اور ادارہ جاتی اصلاحات پر تحقیقاتی صحافت کو فروغ دینا ہوگا۔

پاکستان کو آج نظام بدلنے سے زیادہ طرزِ حکمرانی بدلنے کی ضرورت ہے۔ آئین پر مکمل عملدرآمد، قانون کی بلاامتیاز بالادستی، شفاف احتساب، مؤثر ادارے اور عوامی خدمت پر مبنی انتظامی ڈھانچہ ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر مضبوط وفاق، مستحکم جمہوریت اور پائیدار ترقی کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ قوموں کی تقدیر نئے تجربات سے نہیں بلکہ تاریخ سے سبق سیکھنے، اداروں کو مضبوط بنانے اور اچھی حکمرانی کو یقینی بنانے سے بدلتی ہے۔