کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے تشویشناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب سچ بولنے کی جرات ختم ہونے لگے، اختلافِ رائے جرم سمجھا جانے لگے، اور خوف اس حد تک غالب آجائے کہ لوگ اپنے ضمیر کی آواز بھی دبانے پر مجبور ہو جائیں۔ ایسے ماحول میں نہ صرف عوام خاموش ہوتے ہیں بلکہ ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کی وہ بنیاد بھی کمزور پڑ جاتی ہے جس پر قومی استحکام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن دیرپا استحکام صرف انصاف، اعتماد اور عوامی شرکت سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
اسی تناظر میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے، آئین، جمہوریت، سیاسی مکالمے اور سیاسی قیدیوں کی رہائی سے متعلق مطالبات ایک اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ ان احتجاجوں میں اٹھائے گئے نکات اور حکمرانوں کی پالیسیوں پر تنقید اس جماعت کا سیاسی مؤقف ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ملک کے موجودہ سیاسی، معاشی اور سماجی بحرانوں کا حل محض الزام تراشی اور محاذ آرائی میں پوشیدہ ہے، یا پھر قومی قیادت کو سنجیدہ مکالمے کی میز پر بیٹھنا ہوگا؟ جب مختلف سیاسی قوتیں بار بار آئین، پارلیمان، عدلیہ، میڈیا، معیشت اور وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد کے بحران کی بات کر رہی ہوں تو ان آوازوں کو محض نظرانداز کرنا مسئلے کا حل نہیں بن سکتا۔
پاکستان اس وقت بے شمار داخلی اور خارجی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، سرمایہ کاری میں کمی، امن و امان کے مسائل، صوبائی احساسِ محرومی اور سیاسی عدم استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے بحران ہیں۔ ایسے حالات میں اگر مختلف سیاسی جماعتیں اور سماجی طبقات سیاسی ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں تو اس مطالبے کو محض سیاسی نعرہ قرار دے کر مسترد کرنے کے بجائے اس کے اسباب پر غور کرنا چاہیے۔ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا ریاست اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پشتونخوا جیسے حساس خطوں میں پائیدار امن، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور عوامی اعتماد کے لیے طاقت اور انتظامی اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل کو بھی مؤثر بنانا ہوگا۔ اگر کسی طبقے یا جماعت کو شکایات ہیں تو ان کا جواب دلیل، قانون اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ یہی رویہ ریاست کو مضبوط کرتا ہے، جبکہ مسلسل سیاسی کشیدگی ریاستی اداروں پر بھی غیر ضروری دباؤ ڈالتی ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست کے تمام ذمہ دار ادارے، حکومت، اپوزیشن اور تمام سیاسی قوتیں قومی مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے وسیع البنیاد سیاسی مکالمہ شروع کریں۔ اختلافات کو ختم کرنا ضروری نہیں، لیکن اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کو سننا، آئین کو مشترکہ بنیاد تسلیم کرنا اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے، معاشی استحکام کی بنیاد رکھ سکتا ہے اور ملک کو مزید بحرانوں سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تاریخ قوموں کو بار بار ایسے مواقع نہیں دیتی۔ جب معاشرے کے مختلف طبقات، سیاسی جماعتیں اور عوامی حلقے اپنی آواز بلند کر رہے ہوں تو دانشمندی اسی میں ہے کہ ان آوازوں کو سنا جائے، اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے، اور خوف کی فضا کو مکالمے، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے بدل دیا جائے۔ اگر یہ موقع بھی ضائع ہو گیا تو بحران مزید گہرے ہو سکتے ہیں، لیکن اگر قومی قیادت بصیرت اور تدبر کا مظاہرہ کرے تو یہی حالات ایک نئے قومی اتفاقِ رائے اور مضبوط، مستحکم پاکستان کی بنیاد بھی بن سکتے ہیں۔
