اداریہ ۵ اگست ۲۰۲۶

نظام کی اصلاح یا گورننس کی ناکامی؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ بیان کہ “جب تک سیاست دان ملک کا نظام ٹھیک نہیں کریں گے، کسی ایک ادارے کی محنت سے نتائج حاصل نہیں ہوں گے” ملک میں جاری سیاسی بحث کو ایک نئی سمت دے گیا ہے۔ یہ بیان بظاہر نظام کی اصلاح کی ضرورت پر زور دیتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا بحران واقعی نظام کا بحران ہے یا گورننس کی ناکامی کا؟ اگر نظام ہی بنیادی مسئلہ ہوتا تو آئین، پارلیمنٹ، عدلیہ، وفاق، صوبائی حکومتیں، ضلعی انتظامیہ اور ریاستی ادارے گزشتہ کئی دہائیوں میں کسی بھی مرحلے پر کام نہ کر پاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں آئینی و وفاقی ڈھانچہ اپنی جگہ موجود ہے، مگر اس پر عملدرآمد، قانون کی بالادستی، شفاف احتساب اور میرٹ پر مبنی حکمرانی میں مسلسل کمزوری نے ریاستی اداروں کی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔

پاکستان چار صوبوں، متعدد ڈویژنوں اور ایک سو سے زائد اضلاع پر مشتمل ایک وفاقی ریاست ہے۔ ہر ضلع میں ضلعی انتظامیہ، ہر ڈویژن میں کمشنر کا نظام، ہر صوبے میں منتخب حکومت اور مرکز میں وفاقی حکومت موجود ہے۔ اس پورے انتظامی ڈھانچے کا مقصد عوام تک ریاستی خدمات پہنچانا اور وفاقی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ لیکن اگر وفاقی حکومت آج بھی چار صوبوں کو قومی معاملات پر مکمل اعتماد اور مؤثر ہم آہنگی کے ساتھ ایک صفحے پر لانے میں مشکلات کا شکار ہے، اگر ضلعی اور ڈویژنل سطح پر انتظامیہ امن و امان، بنیادی سہولتوں اور مؤثر حکمرانی کو یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہو رہی، اور اگر معاشی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے تو اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ آئینی نظام ناکام ہو گیا ہے، بلکہ زیادہ درست نتیجہ یہ ہے کہ گورننس ناکام ہوئی ہے۔

گورننس کی اس ناکامی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ اس ملک میں امیر اور غریب کے لیے انصاف، احتساب اور قانون کا معیار یکساں نہیں۔ بااثر طبقے کے لیے الگ قوانین، الگ سہولتیں اور مختلف رویے ہیں، جبکہ عام شہری کے لیے قانون کی سختیاں اور ریاستی دباؤ مختلف انداز میں نافذ ہوتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا نظام دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتا جہاں قانون کی حکمرانی شخصیات، طاقت اور حیثیت کے مطابق تبدیل ہوتی رہے۔ لہٰذا اگر گورننس کی اس بنیادی خرابی کو دور کیے بغیر صرف نظام کی تبدیلی یا نئے انتظامی تجربات کی بات کی جائے تو یہ مسائل کا حل نہیں بلکہ ان سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہوگا۔

اسی تناظر میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہے۔ انتظامی سہولت اور عوامی ضرورت کی بنیاد پر کسی بھی آئینی تجویز پر بحث ہونا جمہوری حق ہے، لیکن جب پہلے سے موجود وفاقی اکائیاں مالی دباؤ، انتظامی کمزوری اور وسائل کی کمی کا سامنا کر رہی ہوں تو مزید صوبوں کا قیام بھی اضافی مالی بوجھ، نئی بیوروکریسی، نئے انتظامی اخراجات اور مزید پیچیدہ سیاسی تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔ اس لیے کسی بھی ایسی تجویز کا فیصلہ صرف سیاسی نعروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ معاشی استعداد، انتظامی صلاحیت اور قومی اتفاق رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

گزشتہ ڈیڑھ دہائی کے دوران وقفے وقفے سے مختلف سیاسی اور فکری حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے کہ موجودہ وفاقی اور آئینی ڈھانچہ ناکام ہو چکا ہے اور اس کی جگہ کسی نئے نظام کی ضرورت ہے۔ محسن نقوی کے حالیہ بیان نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ اس امر سے اختلاف ممکن ہے کہ اس کے پس منظر میں کیا محرکات ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ نظام کی تبدیلی کی بحث کوئی نئی بحث نہیں۔ تاہم کسی بھی ایسے مؤقف کا جائزہ ہمیشہ آئین، پارلیمنٹ، وفاقی اصولوں اور قومی مفاد کی روشنی میں لیا جانا چاہیے، نہ کہ وقتی سیاسی مصلحتوں یا طاقت کے توازن کی بنیاد پر۔

پاکستان کی تاریخ بھی یہ سبق دیتی ہے کہ آئینی ڈھانچے سے ہٹ کر کیے گئے سیاسی تجربات نے استحکام کے بجائے عدم استحکام کو جنم دیا۔ اس لیے اگر آج پھر پورے آئینی ڈھانچے، وفاقی اکائیوں یا نظام حکومت کی تبدیلی کی بات کی جاتی ہے تو اس کے ممکنہ سیاسی، معاشی اور وفاقی نتائج پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ کوئی بھی نئی عمارت تعمیر کرنے کے لیے اگر پہلے پوری بنیاد ہی گرا دی جائے تو اس عمل کے نتائج غیر یقینی ہو جاتے ہیں، اور پاکستان جیسے متنوع وفاق میں اس قسم کے تجربات قومی وحدت کے لیے خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی بنیاد اس کی وفاقی اکائیوں اور اس میں آباد مختلف قومیتوں کے باہمی اعتماد پر قائم ہے۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپشتونخوا صرف انتظامی یونٹ نہیں بلکہ وفاق کی آئینی بنیادیں ہیں۔ اگر مستقبل میں انتظامی حدود، وسائل کی تقسیم یا آئینی اصلاحات پر بحث ہوتی ہے تو اس کا واحد راستہ پارلیمنٹ، آئین، جمہوری اتفاق رائے اور متعلقہ عوام کی رضامندی ہونا چاہیے۔ قومیتوں کی شناخت، ثقافت، زبان، وسائل اور آئینی حقوق کا احترام ہی وفاق کو مضبوط بنا سکتا ہے، جبکہ ان حقوق کو کمزور کرنے والی ہر کوشش قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اصل مسئلہ نظام کی تبدیلی نہیں بلکہ گورننس کی ناکامی ہے۔ جب ایک ہی ریاست میں امیر اور غریب کے لیے قانون کا معیار مختلف ہو، احتساب صرف کمزور طبقے تک محدود ہو، وسائل کی تقسیم میں مساوات نہ ہو اور آئین پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہ کیا جائے تو کوئی بھی نظام اپنی حقیقی صلاحیت کا اظہار نہیں کر سکتا۔ ایسے حالات میں نئے صوبے بنانا یا پورا آئینی ڈھانچہ تبدیل کرنا مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے انتظامی، مالی اور سیاسی بحرانوں کو جنم دے سکتا ہے۔

پاکستان کی بقا بھی اسی میں ہے کہ اس کی مختلف قومیتوں کو ان کی شناخت، وسائل، اختیارات اور سیاسی فیصلوں میں مساوی شراکت کی آئینی ضمانت دی جائے۔ ریاستیں محلاتی منصوبوں، غیر منتخب سیاسی تجربات یا بار بار نظام بدلنے سے مضبوط نہیں ہوتیں بلکہ عوام کے اعتماد، آئین کی بالادستی، قانون کی یکساں حکمرانی اور شفاف احتساب سے مستحکم ہوتی ہیں۔ اگر آج بھی گورننس کی بنیادی خرابیوں کو نظرانداز کرکے سارا زور نظام کی تبدیلی پر دیا گیا تو مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ پاکستان کو کسی نئے غیر آزمودہ نظام سے زیادہ اچھے طرزِ حکمرانی، مضبوط وفاق، بااختیار وفاقی اکائیوں، قومیتوں کے آئینی حقوق کے احترام، آئین کی بالادستی اور ہر شہری کے لیے یکساں انصاف کی ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ریاست کو استحکام، معیشت کو بہتری، وفاق کو مضبوطی اور قومیتوں کو اعتماد فراہم کر سکتا ہے۔