اداریہ ۴ اگست ۲۰۲۶

تجاوزات کے خلاف کارروائی مستقل پالیسی بننی چاہیے.

کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر شہروں میں تجاوزات اب صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ شہری زندگی، ٹریفک، کاروبار اور عوامی تحفظ کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فٹ پاتھوں، سڑکوں، بازاروں اور سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضوں نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کی جانب سے فاطمہ جناح روڈ، شاہ وکشاہ روڈ، لیاقت بازار اور پرنس روڈ سمیت مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف حالیہ کارروائیاں ایک مثبت قدم ہیں۔ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر ہوٹلوں، دکانوں اور دیگر کاروباری مراکز کی جانب سے قائم غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ عوامی مفاد میں ضروری تھا، کیونکہ ان قبضوں نے نہ صرف ٹریفک کی روانی متاثر کی بلکہ پیدل چلنے والوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کیں۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ تجاوزات کا مسئلہ صرف شہر کے مرکزی بازاروں تک محدود نہیں۔ کوئٹہ کے مضافاتی علاقوں میں صورت حال کہیں زیادہ تشویشناک ہے، جہاں گیارہ ہزار وولٹ بجلی کے کھمبوں اور ہائی ٹینشن تاروں کے عین نیچے یا قریب مکانات، دکانیں اور دیگر تعمیرات قائم ہو چکی ہیں۔ یہ صرف قوانین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ انسانی جانوں کو مستقل خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، جہاں کسی بھی وقت ایک بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔ اسی طرح تعمیراتی سامان، ریت، بجری، اینٹیں، سریا، سوزوکیوں، چینگچی رکشوں اور دیگر گاڑیوں کے ذریعے دکانوں کے سامنے آدھی سڑک پر قبضہ معمول بن چکا ہے، جس کے باعث گھنٹوں ٹریفک جام رہنا روز کا معمول ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض تجاوزات کرنے والوں کا یہ دعویٰ بھی سننے میں آتا ہے کہ انہیں انتظامی سرپرستی حاصل ہے، اس لیے کوئی ادارہ ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا۔ اگر ایسے تاثر کو ختم نہ کیا گیا تو قانون کی عملداری پر عوام کا اعتماد مزید کمزور ہوگا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تجاوزات کے خلاف مہم وقتی یا نمائشی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ اسے ایک مستقل، شفاف اور بلاامتیاز پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ انتظامیہ کو چاہیے کہ شہر کے مرکزی علاقوں کے ساتھ ساتھ مضافاتی علاقوں، ہائی ٹینشن لائنوں کے اطراف، سرکاری اراضی، فٹ پاتھوں اور سڑکوں پر قائم تمام غیر قانونی قبضوں کے خلاف یکساں کارروائی کرے۔ اس کے ساتھ متعلقہ محکموں کی جوابدہی بھی یقینی بنائی جائے تاکہ مستقبل میں کسی سرکاری اہلکار کی ملی بھگت سے دوبارہ تجاوزات قائم نہ ہو سکیں۔ شہریوں اور تاجروں کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ قانون کا احترام کریں اور عوامی راستوں پر قبضے سے گریز کریں۔ ایک صاف، محفوظ اور منظم کوئٹہ صرف سخت قانون نافذ کرنے سے نہیں بلکہ قانون کی مسلسل اور مساوی عملداری، ادارہ جاتی دیانت داری اور عوامی تعاون سے ہی ممکن ہے۔