وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ بیان کہ “اگر سیاست دان ملک کا نظام درست نہیں کریں گے تو باقی تمام کوششیں بے سود ثابت ہوں گی” بظاہر ایک سیاسی رائے معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کے بعد ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سامنے آنے والے ردِعمل، وضاحتوں، تنقید اور حکومتی حلقوں کی خاموشی نے اس بیان کو معمول کے سیاسی بیان سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ اس سے بھی زیادہ قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ وزیر داخلہ کا منصب براہِ راست وزیر اعظم کے ماتحت ہونے کے باوجود ان کے بیان پر حکومت کی جانب سے واضح مؤقف سامنے نہ آ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین اس پورے معاملے کو کسی ایک شخصیت کی ذاتی رائے کے بجائے ایک ایسے طاقتور حلقے یا سوچ کی عکاسی قرار دے رہے ہیں جو ملک کے سیاسی مستقبل کے بارے میں کوئی نیا خاکہ ذہن میں رکھتی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر اس پر کھلے قومی مکالمے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ نظام کی اصلاح کے نام پر بارہا ایسے تجربات کیے گئے جنہوں نے وقتی طور پر تو کچھ حلقوں کو مطمئن کیا، مگر طویل مدت میں ریاست اور وفاق دونوں کو نقصان پہنچایا۔ 1958ء سے لے کر بعد کے ادوار تک مختلف سیاسی انجینئرنگ، غیر فطری اتحاد، محدود نمائندگی، منتخب اداروں کی کمزوری اور عوامی مینڈیٹ میں مداخلت جیسے اقدامات کا نتیجہ کبھی مضبوط جمہوریت کی صورت میں سامنے نہیں آیا۔ سب سے تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ انہی غلطیوں، سیاسی بے اعتمادی اور وفاقی اکائیوں کے احساسِ محرومی نے بالآخر ملک کو 1971ء کے سانحے سے دوچار کیا۔ اس لیے آج اگر دوبارہ کسی ایسے راستے پر چلنے کی کوشش کی جائے جس میں حقیقی عوامی نمائندگی کو نظر انداز کیا جائے، تو یہ ماضی کی ناکامیوں کو دہرانے کے مترادف ہوگا۔ مسائل کا حل کسی نئے طاقتور انتظام یا غیر منتخب بندوبست میں نہیں بلکہ آئین، پارلیمان اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
آج پاکستان کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ضرور ہے، مگر اس کی بنیاد طاقت کے توازن پر نہیں بلکہ عوام کے ووٹ اور وفاقی اکائیوں کے مساوی احترام پر ہونی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے متناسب نمائندگی جیسے انتخابی نظام پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے، البتہ اسے پاکستان کے جغرافیائی، سیاسی اور وفاقی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہوگا۔ اگر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ سینیٹ کے انتخابات میں بھی ایسا نمائندہ نظام متعارف کرایا جائے، جس کے تحت ہر سیاسی قوت کو اس کے حقیقی عوامی مینڈیٹ کے مطابق نمائندگی ملے، اور پورا انتخابی عمل ہر قسم کی مداخلت سے پاک ہو، تو یقیناً سیاسی استحکام، قومی اعتماد اور وفاقی ہم آہنگی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ لیکن اگر ایک بار پھر فیصلے بند کمروں میں کیے گئے، وفاق کی اکائیوں کی حقیقی قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر نئے تجربات مسلط کرنے کی کوشش ہوئی، تو خدشہ ہے کہ ملک مزید سیاسی بے یقینی، ادارہ جاتی کشیدگی اور قومی تقسیم کی طرف بڑھ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ایسے کسی امتحان سے محفوظ رکھے، اور تمام ریاستی و سیاسی قوتوں کو آئین، جمہوریت اور قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
