اداریہ ۲ اگست ۲۰۲۶

بیانات کی سیاست یا جمہور کی بالادستی؟

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے اس بیان کہ “اگر سیاست دان نظام کو ٹھیک نہیں کریں گے تو نظام بیٹھ جائے گا” نے محض ایک سیاسی بحث ہی نہیں چھیڑی بلکہ اقتدار، ریاست اور جمہوریت کے تعلق پر کئی بنیادی سوالات بھی کھڑے کر دیے۔ ابتدا میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اس بیان کی مختلف انداز میں وضاحت کی گئی، لیکن جیسے جیسے سیاسی ردعمل سامنے آیا، معاملہ صرف ایک بیان تک محدود نہ رہا۔ ظاہری طور پر محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے رانا ثناء اللہ نے وضاحت پیش کی، جبکہ پیپلز پارٹی خصوصا آصف علی زرداری کی طرف سے سندھ کے وزیراعلیٰ نے جواب دیا۔ اس تمام ردعمل میں یہ تاثر بھی ابھرا کہ محسن نقوی کے سیاسی عروج، ان کے کردار اور اقتدار کے مراکز سے تعلق پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ بحث شخصیات سے آگے بڑھ کر ریاستی ڈھانچے اور سیاسی اختیار کی نوعیت تک جا پہنچی۔
اسی دوران مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا یہ کہنا کہ “جمہوریت ہی بہترین نظام حکومت ہے اور حکمرانی کا حق صرف عوام کو ہے”ایک نہایت اہم سیاسی اور آئینی پیغام کے طور پر سامنے آیا۔ یہ مؤقف دراصل آئینِ پاکستان کی روح سے ہم آہنگ ہے، جس کے مطابق اقتدارِ اعلیٰ عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال ہوتا ہے۔ اگر یہی اصول ابتدا ہی سے عملی طور پر ریاستی پالیسیوں، سیاسی فیصلوں اور ادارہ جاتی رویوں کی بنیاد بنتا، تو شاید آج اتحادی جماعتوں کے درمیان بداعتمادی، وضاحتوں اور جوابی بیانات کی یہ کیفیت پیدا نہ ہوتی۔ ریاست اور حکومت میں فرق کو ہمیشہ واضح رکھنا ضروری ہے؛ ریاست ایک مستقل آئینی ادارہ ہے جبکہ حکومت عوام کے ووٹ سے وجود میں آنے والی ایک عارضی سیاسی انتظامیہ۔
اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کو شخصیات یا وقتی مفادات کے بجائے آئین، پارلیمنٹ اور عوامی مینڈیٹ سے جوڑا جائے۔ جب بھی یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ سیاسی فیصلے عوامی اختیار کے بجائے کسی اور مرکزِ قوت سے وابستہ ہیں تو جمہوری عمل کمزور ہوتا ہے اور غیر ضروری سیاسی کشیدگی جنم لیتی ہے۔ اگر ریاست کی مجموعی سوچ حقیقی معنوں میں جمہور کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور تمام سیاسی قوتوں کے مساوی احترام پر استوار ہو، تو نہ صرف ایسے متنازع بیانات کی گنجائش کم ہو جائے گی بلکہ سیاسی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ پاکستان کو آج بھی اسی اصول کی ضرورت ہے کہ حکومتیں بدل سکتی ہیں، مگر ریاست کا بنیادی عہد ہمیشہ آئین، جمہوریت اور عوام کی حاکمیت کے ساتھ ہونا چاہیے۔