بلوچستان کی کوئلہ کانیں کئی دہائیوں سے ہزاروں مزدوروں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں، مگر افسوس کہ یہی کانیں سینکڑوں خاندانوں کے لیے غم و الم کی علامت بھی بن چکی ہیں۔ موجودہ حکومت کے دور میں بھی مختلف علاقوں، خصوصاً سورینج، دکی، ہرنائی، سنجاوی اور دیگر کان کنی کے مراکز میں پیش آنے والے حادثات میں متعدد کان کن اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ہر حادثے کے بعد افسوس کا اظہار، تحقیقات کے اعلانات، ذمہ داروں کے تعین کی یقین دہانیاں اور جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کے لیے فی کس پانچ لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان سامنے آتا ہے، مگر چند روز بعد یہ معاملہ بھی ماضی کے دیگر سانحات کی طرح سرد خانے کی نذر ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً نہ حفاظتی نظام میں بنیادی اصلاحات آتی ہیں، نہ کان کنوں کے کام کرنے کے حالات بہتر ہوتے ہیں اور نہ ہی انسانی جانوں کے ضیاع کا یہ سلسلہ رک پاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے بیشتر حادثات قدرتی آفات نہیں بلکہ حفاظتی انتظامات، جدید آلات، گیس کی نگرانی کے نظام، ہنگامی انخلاء کے راستوں، تربیت یافتہ عملے اور مؤثر حکومتی نگرانی کے فقدان کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اگر ہر حادثے کے بعد صرف مالی امداد دے کر ذمہ داری پوری سمجھ لی جائے تو اس سے نہ آئندہ حادثات رک سکتے ہیں اور نہ مزدوروں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ مائنز مالکان کی ایک بڑی تعداد اس وقت تک حفاظتی اقدامات پر مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کرے گی جب تک قانون انہیں اس کا پابند نہ بنائے اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت مالی اور قانونی نتائج کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
وقت آ گیا ہے کہ حکومت بلوچستان محض تعزیتی بیانات اور امدادی اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے ایک جامع مائن سیفٹی ایکٹ نافذ کرے۔ قانون میں واضح کیا جائے کہ جس کان میں حفاظتی سہولیات کی عدم موجودگی یا غفلت کے باعث حادثہ پیش آئے، وہاں جاں بحق ہر مزدور کے لواحقین کو کم از کم دو کروڑ روپے معاوضہ ادا کرنا متعلقہ مائنز مالک کی قانونی ذمہ داری ہوگی۔ اس کے ساتھ کان کی رجسٹریشن معطل کی جائے، فوجداری کارروائی کی جائے، لازمی انشورنس، جدید حفاظتی آلات، گیس مانیٹرنگ سسٹم، ریسکیو ٹیموں کی موجودگی اور باقاعدہ حفاظتی آڈٹ کو قانون کا حصہ بنایا جائے۔ جب تک انسانی جان کی قیمت واقعی محسوس نہیں کی جائے گی اور قانون پر سختی سے عمل درآمد نہیں ہوگا، اس وقت تک ہر حادثے کے بعد چند بیانات، معمولی مالی امداد اور چند دن کی ہمدردی کے بعد ایک نیا سانحہ ہمارے سامنے کھڑا ہوگا۔ انسانی جان کا تحفظ کسی بھی مہذب معاشرے کی اولین ذمہ داری ہے، اور اب بلوچستان میں اس ذمہ داری کو عملی اقدامات کے ذریعے پورا کرنے کا وقت آ چکا ہے۔
