وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ کہنا کہ “جب تک سیاستدان ملک کا نظام ٹھیک نہیں کریں گے، فیلڈ مارشل کی محنت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا” ایک ایسے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے جو صرف موجودہ حکومت یا کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کی تقریباً آٹھ دہائیوں کی سیاسی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ملک نے پارلیمانی جمہوریت، صدارتی نظام، چار مارشل لاء، عبوری انتظامات اور مختلف آئینی و سیاسی تجربات دیکھے، مگر آج بھی بنیادی سوال وہی ہے کہ کیا ریاست اپنے تمام شہریوں اور وفاقی اکائیوں کو مساوی حقوق، انصاف اور وسائل تک منصفانہ رسائی فراہم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام، آئینی تعطل، بار بار نظام کی تبدیلی، کمزور ادارہ جاتی روایات، مرکزیت، بدعنوانی، کمزور بلدیاتی ڈھانچہ، اور قومی وسائل کی تقسیم پر مسلسل اختلافات نے ریاستی نظام کو کمزور کیا ہے۔ اس تناظر میں اگر وزیر داخلہ نظام کی خرابی کی بات کرتے ہیں تو یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک ایسے قومی سوال کی طرف اشارہ ہے جس پر سنجیدہ اور وسیع مکالمے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ صرف حکومتیں بدلنے یا چہروں کی تبدیلی سے دیرپا اصلاحات نہیں آئیں۔ فوجی ادوار میں انتظامی نظم و ضبط اور بعض معاشی کامیابیوں کے دعوے کیے گئے، لیکن انہی ادوار میں آئینی تسلسل، سیاسی اداروں کی مضبوطی اور وفاقی ہم آہنگی سے متعلق سوالات بھی اٹھتے رہے۔ دوسری جانب جمہوری حکومتوں نے 1973 کا متفقہ آئین دیا، اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری کو وسعت دی اور کئی اہم سیاسی فیصلے کیے، مگر وہ بھی گڈ گورننس، کرپشن، سیاسی محاذ آرائی، میرٹ اور مؤثر عوامی خدمت جیسے شعبوں میں عوام کی توقعات پوری نہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسئلہ صرف کسی ایک نظام یا ایک ادارے کا نہیں بلکہ ریاستی نظم، آئینی عمل، سیاسی رویوں اور ادارہ جاتی کارکردگی کا ہے۔ اگر واقعی ملک کو پائیدار استحکام درکار ہے تو تمام سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹ، ریاستی اداروں، عدلیہ، ماہرین قانون، دانشوروں، ریٹائرڈ سول و عسکری افسران، جامعات، وکلا، کاروباری برادری اور سول سوسائٹی کے درمیان ایک سنجیدہ قومی مکالمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔ اگر ملک کے مختلف طبقات یہ محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ نظام میں بنیادی اصلاحات درکار ہیں، تو ان اصلاحات کا راستہ آئین، قانون اور عوامی رائے سے ہو کر ہی گزرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے ایک وسیع البنیاد قومی ڈائیلاگ، آئینی اصلاحات پر اتفاقِ رائے، وفاقی اکائیوں اور تمام قومیتوں کے حقوق، وسائل کی حوالگی اور ان پر اختیار ، مؤثر مقامی حکومتوں، آزاد اور شفاف انتخابات، مضبوط احتسابی نظام اور قانون کی یکساں حکمرانی اور اکائیوں کی قومیتی بنیادوں پر قیام جیسے موضوعات پر کھلے دل سے غور ہونا چاہیے۔ اگر مستقبل میں کسی مرحلے پر نئی آئینی یا ساختی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جائے تو وہ بھی صرف آئینی طریقۂ کار، عوامی نمائندگی اور وسیع قومی اتفاقِ رائے کے ذریعے ہی ہونی چاہئیں، تاکہ ہر صوبہ اور ہر قومیت خود کو ریاست کا برابر کا شریک محسوس کرے۔ پاکستان کی پائیدار مضبوطی کسی ایک شخصیت، ایک جماعت یا ایک ادارے کی کامیابی میں نہیں بلکہ ایسے نظام کی تشکیل میں ہے جس پر تمام شہری اعتماد کر سکیں، جو انصاف، مساوات، جوابدہی اور وفاقی ہم آہنگی کی بنیاد پر قائم ہو، اور جس میں ریاست کی طاقت کا سرچشمہ آئین اور عوام کا اعتماد ہو۔
