بلوچستان میں ان دنوں حکومتی تبدیلی کی بازگشت، اہم سیاسی ملاقاتیں، وفاقی سطح پر مشاورت، مختلف سیاسی شخصیات کی سرگرمیاں اور بدلتے ہوئے سیاسی اشارے ایک نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔ دوسری جانب صوبے میں کرپشن، بدانتظامی، آڈٹ اعتراضات، عدم ریکوری، مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری وسائل کے استعمال سے متعلق مختلف حلقوں میں مسلسل سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض ناقدین کی جانب سے وزیراعلیٰ ہاؤس سے منسلک افراد پر اشتہارات کی پالیسی اور وسائل کی تقسیم کے حوالے سے بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ ان تمام عوامل نے صوبے کی مجموعی سیاسی فضا کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ اس دوران بعض سیاسی رہنماؤں کے خلاف سخت بیانات اور مبینہ دھمکی آمیز گفتگو نے بھی سیاسی ماحول کو مزید تلخ کیا ہے، جو کسی بھی مہذب جمہوری روایت سے مطابقت نہیں رکھتی۔
تاہم اصل سوال یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ کون ہوگا یا حکومت کس کے ہاتھ میں ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ کیا صرف چہروں کی تبدیلی بلوچستان کے گھمبیر مسائل کا حل ہے؟ گزشتہ کئی دہائیوں کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ محض حکومتیں بدلنے سے نہ امن آیا، نہ عوام کا اعتماد بحال ہوا اور نہ ہی گورننس کے مسائل ختم ہوئے۔
بلوچستان کو اس وقت ایسی سیاسی قیادت درکار ہے جو ذاتی، جماعتی اور قبائلی مفادات سے بالاتر ہو کر صوبے کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، نواب اسلم رئیسانی اور دیگر سینئر سیاسی شخصیات سمیت تمام بااثر رہنماؤں پر آج تاریخ ایک نئی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے انہیں ختم کرنے کی راہ اختیار کریں۔
اگر واقعی بلوچستان کے لیے کوئی نئی سیاسی ترتیب زیر غور ہے تو اس کا نقطۂ آغاز اقتدار کی تقسیم نہیں بلکہ ایک واضح قومی و صوبائی عہد ہونا چاہیے۔ اقتدار سنبھالنے والی ہر شخصیت سے یہ اخلاقی اور سیاسی حلف لیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے تمام باہمی اختلافات، سیاسی رقابتوں اور ذاتی ترجیحات کو پسِ پشت ڈال کر صرف ایک مقصد کے لیے کام کرے گی: بلوچستان میں بھڑکتی ہوئی آگ کو بجھانا، امن و استحکام کو یقینی بنانا، شفاف حکمرانی کو فروغ دینا، کرپشن اور بدانتظامی کا بے لاگ احتساب کرنا، اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کرنا۔ اگر نئی سیاسی صف بندی اس مقصد کے لیے وجود میں آتی ہے تو یقیناً یہ بلوچستان کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہوگی، لیکن اگر یہ بھی صرف اقتدار کی ایک اور تبدیلی ثابت ہوئی تو صوبے کے مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے اور تاریخ خود کو ایک بار پھر دہراتی نظر آئے گی.
