اداریہ ۲۸ جولائی ۲۰۲۶

بے روزگاری، احساسِ محرومی اور امن کا چیلنج

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے گرفتار حبیب اللہ کے مبینہ اعترافی بیان میں اگر یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ بے روزگاری اور مالی لالچ کے باعث مسلح تنظیم میں شامل ہوا، تو یہ پہلو صرف ایک فرد کے جرم تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے پس منظر میں موجود سماجی، معاشی اور انتظامی مسائل پر بھی سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت پیدا کرتا ہے۔ دہشت گردی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں اور اس کے مرتکبین کو قانون کے مطابق جوابدہ ہونا چاہیے، تاہم اگر بے روزگاری، احساسِ محرومی اور ترقی کے غیر مساوی مواقع نوجوانوں کو انتہا پسند عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے کا موقع فراہم کر رہے ہیں تو یہ صورتحال حکومت اور ریاستی اداروں کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔

بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، مگر یہاں کے عوام طویل عرصے سے روزگار، بنیادی سہولتوں اور ترقیاتی مواقع کے حوالے سے شکایات کرتے آئے ہیں۔ اگر نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس ہوں تو شدت پسند تنظیمیں انہیں اپنے جھوٹے وعدوں اور مالی ترغیبات کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے، ہر ضلع اور ہر علاقے میں ترقیاتی منصوبوں کو یکساں بنیادوں پر آگے بڑھائے، احساسِ محرومی کا خاتمہ کرے اور عوام میں یہ اعتماد پیدا کرے کہ وہ اس صوبے کے برابر کے شریک اور اس کے وسائل کے اصل حق دار ہیں، جن کی ترقی ہی پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں انتظامی فیصلوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب صوبے کے متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت بھی مؤثر انداز میں دستیاب نہیں، سرکاری نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل کرنے، سرکاری ٹینڈرز اور اشتہارات کو پرنٹ میڈیا سے منتقل کرنے اور مقامی اخبارات کے کردار کو محدود کرنے جیسے اقدامات پر نظرثانی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اگر واقعی وزیراعلیٰ ہاؤس یا کسی بھی سرکاری مرکز میں غیر منتخب افراد کو غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے، یا سرکاری اشتہارات اور وسائل کی تقسیم میں مفادات کے ٹکراؤ ذاتی اخبار خرید کر اشتہارات اسے جاری کرنا جیسے الزامات موجود ہیں، تو ان کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو۔ امن صرف سیکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ انصاف، شفاف حکمرانی، مساوی ترقی، آزاد و مضبوط میڈیا اور نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنے سے ہی پائیدار بنیادوں پر قائم ہو سکتا ہے۔ نہ کہ کابینہ کے سولہ اپریل کے ایڈورٹائزمنٹ ریوازڈ پالیسی پالیسی جیسے فیصلے جس سے ہزاروں خاندانوں کے کفیل بےروزگار ہوکر نامعلوم راستوں کا انتخاب کرے۔