اداریہ ۲۴ جولائی ۲۰۲۶

بلوچستان میں معاشی انصاف، مؤثر حکمرانی اور انتظامی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، قدرتی وسائل سے مالا مال اور قومی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، لیکن بدقسمتی سے یہی صوبہ معاشی، انتظامی اور ترقیاتی محرومیوں کی طویل داستان بھی رکھتا ہے۔ آج بلوچستان کے عوام اور سرکاری ملازمین ایسے حالات سے گزر رہے ہیں جہاں ایک طرف مہنگائی ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے اور دوسری طرف آمدنی اور تنخواہوں میں اضافہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، ٹرانسپورٹ، خوراک، علاج اور تعلیم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی زندگی انتہائی دشوار بنا دی ہے، مگر حکومتی پالیسیاں اب بھی زمینی حقائق سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتیں۔

بلوچستان کے سرکاری ملازمین کا مسئلہ صرف کم تنخواہوں تک محدود نہیں بلکہ ان کے ساتھ اختیار کیے جانے والے انتظامی رویے بھی شدید تشویش کا باعث ہیں۔ اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے ملازمین کو بعض اوقات ایسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے وہ ریاستی ملازم نہیں بلکہ کسی سنگین جرم کے مرتکب ہوں۔ معطلی، گرفتاری، دور دراز علاقوں میں تبادلے یا سخت موسمی علاقوں میں تعیناتی جیسے اقدامات انتظامی مسائل کا حل نہیں بلکہ احساسِ محرومی اور بے اعتمادی کو جنم دیتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر تنخواہوں میں اضافے کا موجودہ نظام عدم توازن کی واضح مثال بن چکا ہے۔ ایک طرف بعض اعلیٰ افسران کی سالانہ تنخواہی بڑھوتری کم گریڈ کے ایک ملازم کی پوری ماہانہ تنخواہ کے برابر ہو جاتی ہے، جبکہ نچلے درجے کے ملازمین کو چند سو یا چند ہزار روپے کا اضافہ ملتا ہے، جو مہنگائی کے موجودہ دور میں ان کی مشکلات میں کوئی حقیقی کمی نہیں لا سکتا۔ یہ تفاوت صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی انصاف کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔

بلوچستان کی انتظامی صورتحال کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ متعدد ایسے سینئر افسران، جن کی تعیناتی صوبے میں ہے، عملی طور پر اسلام آباد یا ملک کے دیگر حصوں میں مقیم رہتے ہیں اور محکموں کے روزمرہ امور دور بیٹھ کر چلاتے ہیں۔ نتیجتاً دفتری معاملات جونیئر افسران یا سیکشن سطح کے اہلکاروں کے سپرد ہو جاتے ہیں، جن کے پاس نہ مطلوبہ اختیارات ہوتے ہیں اور نہ ہی پالیسی فیصلے کرنے کی قانونی حیثیت۔ اس طرزِ حکمرانی سے فیصلہ سازی سست روی کا شکار ہوتی ہے، عوامی مسائل کے حل میں تاخیر آتی ہے اور پورا انتظامی نظام غیر مؤثر ہوتا چلا جاتا ہے۔ بلوچستان جیسے حساس اور وسیع صوبے میں یہ روش گورننس کے بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ جس افسر کی تعیناتی بلوچستان میں ہو، وہ اپنی ذمہ داریاں بھی بلوچستان میں رہ کر ادا کرے، کیونکہ مؤثر حکمرانی صرف فائلوں سے نہیں بلکہ عوام کے درمیان موجود رہ کر مسائل حل کرنے سے ممکن ہوتی ہے۔

وفاقی ادارۂ شماریات کی رپورٹس اور زمینی حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے اور بنیادی ضروریات کی اشیاء عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ جب ایک ملازم کی آمدنی کا بڑا حصہ بجلی، گیس، مکان کے کرائے، بچوں کی تعلیم اور علاج پر خرچ ہو جائے تو اس کے لیے باوقار زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بلوچستان میں نجی شعبے کے محدود مواقع، طویل فاصلے، کمزور صحت اور تعلیمی ڈھانچے اور بنیادی سہولیات کی کمی اس معاشی دباؤ کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام کو صرف صبر کی تلقین کرنا یا اعداد و شمار کے ذریعے بہتری کے دعوے کرنا کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

صوبائی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ بلوچستان میں مہنگائی، تنخواہوں، سفری اخراجات، رہائشی اخراجات اور دیگر بنیادی ضروریات کا دیگر صوبوں سے تقابلی جائزہ لے اور اس بنیاد پر خصوصی ریلیف پیکیج، علاقائی الاؤنس اور تنخواہوں کے ڈھانچے میں منصفانہ اصلاحات متعارف کرائے۔ اسی کے ساتھ سرکاری ملازمین کے ساتھ احترام، قانون اور انصاف پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے، تاکہ ریاست اور اس کے ملازمین کے درمیان اعتماد بحال ہو۔ انتظامی نظام میں حاضری، جوابدہی اور کارکردگی کو یقینی بنایا جائے اور ایسے تمام افسران کو اپنی جائے تعیناتی پر خدمات انجام دینے کا پابند بنایا جائے جو دور بیٹھ کر محکمے چلا رہے ہیں۔

بلوچستان کے عوام کسی خصوصی رعایت کے نہیں بلکہ آئین کے مطابق مساوی حقوق، منصفانہ معاشی پالیسیوں اور مؤثر حکمرانی کے طالب ہیں۔ اگر حکومت واقعی صوبے میں استحکام، ترقی اور عوامی اعتماد بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے بیانات کے بجائے عملی اصلاحات، معاشی انصاف اور انتظامی جوابدہی کی راہ اختیار کرنا ہوگی۔ مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جہاں عوام خود کو محفوظ، ملازمین خود کو باوقار اور ادارے خود کو جوابدہ محسوس کریں۔ بلوچستان کے حالات بھی اسی وقت بدلیں گے جب حکمرانی کا مرکز عوامی خدمت، معاشی انصاف اور مؤثر انتظامیہ ہوگی، نہ کہ دور بیٹھ کر چلایا جانے والا نظام۔