اداریہ ۲۳ جولائی ۲۰۲۶

بلوچستان: جرگہ، آئین اور قومی اتفاقِ رائے ہی پائیدار امن کی ضمانت۔

بلوچستان کئی دہائیوں سے سیاسی، آئینی، انتظامی اور سماجی پیچیدگیوں کا شکار ہے۔ ان مسائل نے نہ صرف عوام کی زندگیوں کو متاثر کیا بلکہ بلوچ اور پشتون سمیت تمام اقوام کے درمیان اعتماد کے ماحول کو بھی کمزور کیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر سیاسی قیادت اختلافات کو طاقت کے بجائے آئین، جرگے، مکالمے اور باہمی احترام کے ذریعے حل کرنے کی بات کرے تو اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں نواب اسلم رئیسانی کے بیان نے بلوچستان کے بنیادی سیاسی سوالات کو ایک مرتبہ پھر قومی سطح پر زیرِ بحث لا کھڑا کیا ہے۔ نواب اسلم رئیسانی بلوچستان کی ان چند سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہیں مختلف قبائل، نسلی اور لسانی حلقوں میں کافی حد تک قبولیت حاصل ہے۔ ان کے حالیہ خیالات ماضی کے بہت سے سیاسی اکابرین کےسیاسی بیانات سے مختلف محسوس ہوتے ہیں کیونکہ ان میں سیاسی مفاہمت، آئینی حل اور مذاکرات پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم اسوقت اگر وہ قلات ڈویژن کے ساتھ ساتھ سبی ڈویژن اور دیگر علاقوں کے تحفظات کو بھی اسی وسعتِ نظر سے اجاگر کریں تو یہ بلوچ اور پشتون عوام کے درمیان مزید اعتماد، بھائی چارے اور سیاسی ہم آہنگی کا باعث بن سکتا ہے۔

صوبے کی تاریخ گواہ ہے کہ بلوچ اور پشتون اقوام نے ہمیشہ میڑھ، جرگے، مشاورت، ننواتے، رواداری اور قبائلی احترام کی روایات کے ذریعے بڑے سے بڑے تنازعات کا حل نکالا ہے۔ آج بھی انہی روایات کو آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک بااختیار صوبائی سطح کی کمیٹی تشکیل دی جا سکتی ہے جس میں نواب اسلم رئیسانی، نواب ذوالفقار علی مگسی، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، سردار اختر جان مینگل، نواب ایاز خان جوگیزئی، نواب غوث بخش باروزئی، نواب عمر فاروق کاسی اوراصغر خان اچکزئی سمیت دیگر قابلِ قبول سیاسی و قبائلی شخصیات شامل ہوں۔

اس اداریے کی رائے میں اس کمیٹی کو ریاستی اداروں، بالخصوص اسٹیبلشمنٹ، کی مکمل معاونت اور ضروری اختیارات حاصل ہونے چاہییں تاکہ وہ تمام متعلقہ فریقوں سے بامعنی مذاکرات کر سکے اور ایک قابلِ عمل سیاسی و آئینی روڈ میپ مرتب کرے۔ اگر اعتماد سازی کے لیے لاپتہ افراد کے مقدمات پر پیش رفت ہو، جن افراد کے بارے میں قانونی کارروائی درکار ہو انہیں قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کیا جائے، جن کی رہائی ممکن ہو انہیں رہا کیا جائے، اور بلوچ یکجہتی کمیٹی سمیت مختلف سیاسی کارکنوں کے معاملات قانون اور عدالتی تقاضوں کے مطابق شفاف انداز میں نمٹائے جائیں، تو اس سے مذاکرات کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی اعتماد کی فضا میں ان مسلح گروہوں سے بھی بات چیت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں جو مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل پر آمادہ ہوں۔

اسی طرح بلوچستان کی انتظامی تقسیم کے حوالے سے بھی دیرینہ تحفظات موجود ہیں۔ سابقہ کوئٹہ اور قلات ریجن کی بحالی، اور ان سے متعلق انتظامی حدود کے بارے میں مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں۔ مناسب ہوگا کہ ان تمام تجاویز کا غیرجانبدارانہ، آئینی اور انتظامی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے اور تمام متاثرہ اضلاع، قبائل اور سیاسی قوتوں سے مشاورت کے بعد ایسا فیصلہ کیا جائے جو انصاف، عوامی مفاد اور صوبائی ہم آہنگی کو مضبوط کرے۔صوبے کے مسائل نہ بندوق سے حل ہوئے ہیں اور نہ محض انتظامی فیصلوں سے حل ہوں گے۔ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب تمام متعلقہ فریق آئین، قانون، سیاسی مکالمے، باہمی احترام اور تاریخی روایات کو بنیاد بنا کر آگے بڑھیں۔ اگر اعتماد سازی کے عملی اقدامات کیے جائیں، سنجیدہ سیاسی مطالبات کو سنا جائے، تمام نمائندہ قیادت کو ایک میز پر بٹھایا جائے اور ایک بااختیار مصالحتی عمل شروع کیا جائے تو بلوچستان میں امن، ترقی اور قومی یکجہتی کی ایک نئی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔۔