کوئٹہ( ویب سائٹ ) آل بلوچستان گرینڈ ٹرانسپورٹرز اتحاد کے ممتاز ٹرانسپورٹرز حاجی میر حکمت لہڑی، حاجی دولت خان لہڑی، حاجی وحید خان کاکڑ، حاجی حبیب اللہ خان بادیزئی، حاجی میر عبدالقادر رئیسانی، حاجی میر اکبر لہڑی، حاجی موسی جان اچکزئی، حاجی نصراللہ دھوار، حاجی علی محمد، حاجی ابراہیم اور دیگر نے لکپاس کسٹم گودام میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعہ کو ایک گھنانی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ محض حادثہ نہیں بلکہ کرپشن چھپانے، شواہد مٹانے اور ٹرانسپورٹروں کے کروڑوں روپے مالیت کے سامان کو ہڑپ کرنے کی منظم کوشش ہے۔مشترکہ بیان میں ٹرانسپورٹ رہنماں نے دعوی کیا کہ اس آتشزدگی میں ٹرانسپورٹروں کی کھڑکی بسیں، کوچز، ٹو ڈی گاڑیاں اور دیگر قیمتی سامان جلا کر راکھ کردیا گیا، جس سے ٹرانسپورٹر برادری کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کسٹم پہلے ہی اربوں روپے مالیت کی چاندی کی اینٹوں کی مبینہ تبدیلی کے سنگین اسکینڈل کی زد میں ہے، جبکہ اب لکپاس کسٹم گودام میں اچانک لگنے والی آگ نے اس شبہ کو مزید تقویت دی ہے کہ یہ سب کچھ کرپشن کے ثبوت مٹانے کیلئے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف کارروائیوں میں ضبط شدہ سامان، جن کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت تھے، آگ کی نذر ہوگئے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ اصل اشیا کو پہلے ہی مارکیٹ میں فروخت کیا جا چکا تھا اور ریکارڈ برابر کرنے کیلئے آگ کا سہارا لیا گیا تاکہ تمام ثبوت ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیں۔بیان میں کہا گیا کہ محکمہ کسٹم میں موجود بعض کرپٹ عناصر ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کام کر رہے ہیں، جو بلوچستان بھر میں قبضے میں لی گئی قیمتی اشیا کو جعلی یا کم معیار کے سامان سے تبدیل کرکے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنا دیتے ہیں، جبکہ اصل سامان ملی بھگت سے نجی منڈیوں میں فروخت کردیا جاتا ہے۔ رہنماں نے مطالبہ کیا کہ لکپاس کسٹم گودام آتشزدگی کو چاندی کی اینٹوں کے اسکینڈل کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے اور اس معاملے کی تحقیقات کیلئے اعلی سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جو گودام کی باقیات کا فرانزک آڈٹ کرکے یہ معلوم کرے کہ جلنے والا سامان واقعی وہی تھا جو سرکاری ریکارڈ میں درج تھا یا صرف خانہ پری کیلئے کچرا جلایا گیا۔ آل بلوچستان گرینڈ ٹرانسپورٹرز اتحاد کے رہنماں نے وفاقی حکومت، چیف کلکٹر کسٹمز، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو بے نقاب کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، ٹرانسپورٹروں کے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے اور محکمہ کسٹم میں جاری مبینہ کرپشن کے نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
