اداریہ ۱۹ جولائی ۲۰۲۶

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ، پاکستان کا کردار اور سفارت کاری کا امتحان

پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی چند ہی گھنٹوں میں جنگ بندی پر ختم ہوگئی اور اس کے بعد ایسی کوئی نمایاں خلاف ورزی سامنے نہیں آئی جس سے دوبارہ کھلی جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی۔ اس کے برعکس مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی وقفے وقفے سے جاری رہی، جنگ بندی کے اعلانات بھی ہوئے مگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہیں، جس سے خطہ بدستور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ اگر دنیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی مختصر مدت میں سفارت کاری کے ذریعے کم ہو سکتی ہے تو یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ عالمی طاقت ہونے کے باوجود امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار استحکام قائم کرنے میں کیوں کامیاب نہیں ہو سکا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

مزید اہم سوال یہ بھی ہے کہ ماضی میں جن عالمی طاقتوں کا ایران کے ساتھ شدید اختلاف تھا، آج ان میں سے متعدد ممالک مختلف سفارتی یا تزویراتی وجوہات کی بنا پر امریکہ کے مؤقف کے قریب کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ اس تبدیلی کے اسباب کیا ہیں، اور خطے کی نئی صف بندیاں کس سمت جا رہی ہیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے واضح جوابات عالمی قیادت پر قرض ہیں۔ اسی طرح آبنائے ہرمز، بحری تجارت اور عالمی توانائی کی رسد سے متعلق بھی مختلف خدشات اور قیاس آرائیاں زیرِ بحث ہیں۔ ضروری ہے کہ ان حساس معاملات پر حقائق اور سفارتی ذرائع کی بنیاد پر وضاحت سامنے آئے تاکہ غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ نہ ہو۔

ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی کا پاکستان کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطہ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف ایرانی قیادت بلکہ امریکہ سمیت دیگر متعلقہ ممالک سے بھی واضح سفارتی رابطے کرنے چاہییں۔ اسلام آباد کو دونوں فریقوں سے یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ ان کے سیاسی اور عسکری اہداف کیا ہیں، وہ موجودہ کشیدگی کا اختتام کس طریقے سے دیکھتے ہیں، اور آیا خطے کی اہم آبی گزرگاہوں، خصوصاً آبنائے ہرمز، کی حیثیت اور سلامتی کے بارے میں ان کے طویل المدتی عزائم کیا ہیں۔ ان معاملات پر شفافیت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن اور عالمی معیشت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کی روایت کے مطابق غیر جانب دار، متوازن اور فعال سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون، اور عالمی برادری کے ساتھ ذمہ دارانہ روابط اس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ علاقائی تصادم کو روکنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ یہی وقت ہے کہ اسلام آباد واضح پیغام دے کہ جنگوں کا دائرہ وسیع کرنے کے بجائے مذاکرات، اعتماد سازی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو فروغ دیا جائے۔ اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو طاقت کے مظاہرے کے بجائے سفارت کاری کو فیصلہ کن حیثیت دینا ہوگی، کیونکہ ایک نئی علاقائی جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے ایشیا اور عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔