مقامی ۱۱ مئی ۲۰۲۶

لکپاس کسٹم میں آتشزدگی، اربوں روپے مالیت کی گاڑیاں جل گئیں، متاثرین کا شدید احتجاج ۔

مستونگ (ڈیلی صداقت انٹرنیشنل( بلوچستان میں کسٹم حکام کے خلاف عوامی غم و غصہ شدت اختیار کرگیا ہے۔ لکپاس کسٹم میں کھڑی اربوں روپے مالیت کی گاڑیوں میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد متاثرین اور شہریوں نے کسٹم حکام پر شدید غفلت اور ناانصافی کے الزامات عائد کردیئے ہیں۔ متاثرین کے مطابق کسٹم حکام نے گزشتہ تین تین سال سے سینکڑوں گاڑیاں مختلف کیسز میں تحویل میں لے رکھی تھیں تاہم نہ مقدمات کا فیصلہ کیا جا رہا تھا اور نہ ہی گاڑیوں کی رہائی ممکن بنائی جا رہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ لکپاس کسٹم میں پیش آنے والے حالیہ آتشزدگی کے واقعے میں متعدد گاڑیاں جل کر خاکستر ہوگئیں جن کی مالیت اربوں روپے بتائی جا رہی ہے۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان گاڑیوں میں صرف قیمتی گاڑیاں ہی نہیں بلکہ غریب خاندانوں کی جمع پونجی، روزگار اور مستقبل بھی شامل تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کئی گاڑیوں پر صرف معمولی نوعیت کے کیسز قائم تھے جن میں ایرانی بسکٹ، چاکلیٹ اور دیگر خوردنی اشیاء شامل تھیں مگر طویل عرصے سے کیسز زیر التواء ہونے کے باعث آج تمام سامان اور گاڑیاں جل کر تباہ ہوگئیں۔ شہریوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر بروقت مقدمات نمٹائے جاتے تو حکومت کو جرمانوں کی مد میں کروڑوں بلکہ اربوں روپے کا فائدہ ہوسکتا تھا جبکہ متاثرہ افراد اپنی گاڑیاں استعمال کرکے اپنے خاندانوں کا سہارا بن سکتے تھے۔ متاثرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام زیر التواء کیسز فوری طور پر نمٹائے جائیں، متاثرہ افراد کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے، واقعے کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور بلوچستان کے عوام کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ یہ صرف گاڑیوں کا نقصان نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے مستقبل کو جلانے کے مترادف ہے۔