مقامی ۱۱ مئی ۲۰۲۶

ریڈیو سے بلوچی اور براہوئی نیوز بلیٹن کا خاتمہ ناقابلِ قبول ہے، پروفیسرحلیم صادق

کوئٹہ (ڈیلی صداقت انٹرنیشنل)عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے ریڈیو پاکستان کوئٹہ اسٹیشن سے بلوچی اور براہوئی نیوز بلیٹن ختم کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچستان کے عوام کے ساتھ ناانصافی، تعصب اور مقامی زبانوں کے خلاف اقدام قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان ایک وسیع و عریض صوبہ ہے جہاں آج بھی متعدد دور دراز علاقوں میں اخبارات، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور دیگر جدید ذرائع ابلاغ کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ ایسے علاقوں میں رہنے والے عوام کیلئے ریڈیو پاکستان ہی خبروں، حالات حاضرہ، حکومتی پالیسیوں اور قومی و بین الاقوامی صورتحال سے باخبر رہنے کا سب سے اہم اور مثر ذریعہ ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے کہا کہ بلوچی اور براہوئی زبانیں بلوچستان کی قدیم ثقافت، تاریخ اور شناخت کا اہم حصہ ہیں۔ ان زبانوں میں نیوز بلیٹن کا خاتمہ نہ صرف لاکھوں سامعین کے معلومات تک رسائی کے حق پر ضرب ہے بلکہ اس سے صوبے کے عوام میں احساس محرومی بھی بڑھے گا۔ انھوں نے کہا کہ قومی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام زبانوں اور ثقافتوں کو یکساں اہمیت دیں تاکہ قومی یکجہتی اور بھائی چارے کو فروغ مل سکے۔ انھوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان ماضی میں بلوچستان کے عوام کیلئے معلومات، تعلیم، شعور اور ثقافتی ہم آہنگی کا اہم ذریعہ رہا ہے۔ بلوچی اور براہوئی نیوز بلیٹن کے ذریعے دور افتادہ علاقوں کے لوگ ملکی حالات سے آگاہ رہتے تھے، لیکن ان نشریات کی بندش سے عوام شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے وفاقی حکومت، وزارت اطلاعات اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بلوچی اور براہوئی نیوز بلیٹن بحال کئے جائیں تاکہ بلوچستان کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور تشویش کا خاتمہ ہو سکے۔ انھوں نے کہا کہ مقامی زبانوں کا تحفظ اور فروغ ریاست کی آئینی اور قومی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔ بلوچستان کے عوام اپنی زبان، ثقافت اور شناخت سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور ایسے فیصلے صوبے کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کرے۔