اداریہ ۱۸ جولائی ۲۰۲۶

مذاکرات کی کامیابی وعدوں کی پاسداری سے مشروط ہے

زیارت سانحہ کے شہداء کے لواحقین اور حکومت بلوچستان کے درمیان طے پانے والا تحریری معاہدہ بظاہر ایک اہم پیش رفت ہے جس کے نتیجے میں احتجاجی دھرنا ختم ہوا اور شہداء کی تدفین ممکن ہوئی۔ تاہم اس پورے عمل کے دوران مذاکراتی مسودوں میں بار بار تبدیلیوں، مختلف بیانات اور بااختیار فیصلہ سازی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات نے عوام میں کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ اگر مذاکرات کے دوران واقعی پہلے سے طے شدہ نکات تبدیل کیے گئے یا فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر کی گئی تو یہ صورتحال اعتماد سازی کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں سیاسی استحکام کا انحصار صرف معاہدوں پر نہیں بلکہ ان پر دیانتداری سے عمل درآمد پر بھی ہے۔

معاہدے میں کئی اہم نکات شامل کیے گئے ہیں، جن میں عدالتی کمیشن کے قیام کے لیے اقدامات، دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی بہتر بنانے، امن و امان پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت، لیویز اور پولیس سے متعلق پارلیمانی کمیٹی، شہداء کے لواحقین کے لیے شہید پیکیج، متاثرہ علاقوں کے زمینی تنازعات کے حل اور شہداء کی یاد کو سرکاری سطح پر محفوظ بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اگر ان نکات پر مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ بلوچستان میں سیاسی ماحول کو بھی مثبت سمت دے سکتا ہے۔ تاہم اگر یہ معاہدہ بھی سابقہ وعدوں کی طرح کاغذوں تک محدود رہا تو بداعتمادی مزید گہری ہو سکتی ہے اور احتجاجی تحریکوں کے دوبارہ سر اٹھانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

اس مرحلے پر تمام سیاسی قوتوں، حکومت، اپوزیشن، ریاستی اداروں اور احتجاجی قیادت کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاہدے کو ایک نئے آغاز کے طور پر دیکھیں، نہ کہ ایک عارضی انتظام کے طور پر۔ بلوچستان کے مسائل طاقت یا تاخیری حربوں سے نہیں بلکہ شفاف مذاکرات، آئینی بالادستی، سیاسی دیانت اور کیے گئے وعدوں کی مکمل پاسداری سے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ اگر حکومت اپنے تحریری وعدوں پر بروقت عمل درآمد یقینی بناتی ہے تو نہ صرف شہداء کے لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے گا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا وہ رشتہ بھی مضبوط ہوگا جو کسی بھی پائیدار امن اور سیاسی استحکام کی بنیادی شرط ہے۔