وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک بار پھر اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ قومی میڈیا بلوچستان کو صرف جرائم اور بدامنی تک محدود رکھتا ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں، اصلاحاتی اقدامات اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو وہ اہمیت نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ یہ شکایت اپنی جگہ بجا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی جنم لیتا ہے کہ اگر حکومت خود اپنے صوبے کے مقامی پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کو مضبوط بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تو قومی میڈیا سے توقعات کس بنیاد پر وابستہ کی جائیں؟ بدقسمتی سے حکومت کے بعض اقدامات اور بیانات ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ کے حالیہ بیانات اور 16 اپریل 2026 کو منظور ہونے والی میڈیا پالیسی کے درمیان واضح تضاد محسوس کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف مقامی میڈیا کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایسی پالیسیاں سامنے آتی ہیں جن پر خود بلوچستان کے صحافتی حلقے شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
یہ صورتِ حال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا وزیراعلیٰ کے سامنے ان کے بیانات اور پالیسیوں کا باقاعدہ تقابلی جائزہ رکھا جاتا ہے؟ کیا وہ ہر سرکاری بیان جاری ہونے سے قبل اس کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تاکہ حکومت کے عملی اقدامات اور اعلانات میں یکسانیت برقرار رہے؟ اگر ایسا ہو رہا ہے تو پھر اس تضاد کی وضاحت ضروری ہے، اور اگر نہیں ہو رہا تو یہ حکومتی ابلاغ کے نظام میں ایک سنجیدہ کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ کا ہر بیان محض ایک خبر نہیں بلکہ حکومت کی پالیسی، ترجیحات اور مستقبل کی سمت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بیانات محض وقتی ردِعمل نہ ہوں بلکہ ان کی بنیاد عملی اقدامات، زمینی حقائق اور حکومتی پالیسیوں سے مکمل ہم آہنگ ہو۔ یہی مؤثر قیادت اور ذمہ دار حکمرانی کا تقاضا ہے۔
بلوچستان کو آج باہر کے بیانیے سے زیادہ اپنے مضبوط میڈیا کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ بلوچستان کی مثبت تصویر قومی سطح پر اجاگر ہو تو اس کا سب سے مؤثر راستہ یہی ہے کہ وہ صوبے کے اپنے صحافیوں، اخبارات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور میڈیا اداروں کو اعتماد میں لے، ان کے معاشی استحکام کے لیے منصفانہ اور شفاف پالیسیاں تشکیل دے اور میڈیا سے متعلق ہر بڑے فیصلے سے پہلے مقامی صحافتی نمائندوں سے مشاورت کو یقینی بنائے۔ دوسروں سے یہ شکوہ کرنے کے بجائے کہ وہ بلوچستان کو صحیح انداز میں پیش نہیں کرتے، حکومت کو اپنے ہی صوبے کی باصلاحیت صحافتی قوت پر اعتماد کرنا چاہیے۔ اگر وزیراعلیٰ بلوچستان اس سمت میں عملی پیش رفت کرتے ہیں تو نہ صرف ان کے بیانات اور اقدامات میں ہم آہنگی پیدا ہوگی بلکہ بلوچستان ایک مضبوط، باوقار اور بااثر علاقائی پریس کی بنیاد رکھ کر ملکی صحافت میں ایک نئی تاریخ بھی رقم کر سکتا ہے۔
