اداریہ ۱۴ جولائی ۲۰۲۶

اختیار صرف منصب نہیں، جوابدہی بھی ہے۔

بلوچستان کے سیاسی حالات کا ایک دلچسپ مگر تلخ پہلو یہ ہے کہ یہاں کے سیاست دان دیگر صوبوں کے مقابلے میں سیاسی اتار چڑھاؤ، طاقت کے مراکز اور مستقبل کے ممکنہ نتائج کو زیادہ قریب سے سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو آنے والے مشکل حالات سے بچانے کے لیے حکمت عملی بنانے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ بڑے معاہدے ہوں، حساس فیصلے ہوں یا اہم تعیناتیاں، اقتدار کے ایوانوں میں اکثر یہ اعتراف سننے کو ملتا ہے کہ فلاں تعیناتی درست نہیں ہوئی، اس کے نقصانات فوائد سے زیادہ ثابت ہوئے اور ذمہ دار افسر کو معطل یا تنزلی کا سامنا کرنا چاہیے۔ مگر جب یہی سیاسی رہنما عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہیں تو مؤقف بدل جاتا ہے اور مطالبہ معطلی یا احتساب کا نہیں بلکہ براہ راست استعفے کا سنائی دیتا ہے۔ یہی تضاد ہمارے سیاسی اور انتظامی نظام کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ اگر ایک غلط تعیناتی کسی سانحے کا سبب بنتی ہے تو سوال صرف اس شخص سے نہیں ہونا چاہیے جو اس منصب پر موجود تھا بلکہ اس سے بھی ہونا چاہیے جس نے اسے اس ذمہ داری کے لیے منتخب کیا، کیونکہ اختیار کے ساتھ جوابدہی بھی لازم ہوتی ہے۔

سانحۂ زیارت کے بعد جاری احتجاجی دھرنے میں اپوزیشن لیڈر اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں اور افسران کو بے سروسامانی کی حالت میں مانگی ڈیم بھیج کر دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ ان کے بقول زیارت کے شہداء کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا، ڈی سی سے لے کر چیف سیکرٹری تک تمام ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج ہونے چاہئیں، اور اپوزیشن کا متفقہ فیصلہ ہے کہ موجودہ حکومت مستعفی ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنہوں نے ان اہلکاروں کو اس مشن پر بھیجا، انہیں خود استعفیٰ دینا چاہیے تھا، بصورت دیگر انہیں برطرف کیا جانا چاہیے تھا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے مستعفی ہونے سے مسائل حل ہوتے ہیں تو وہ ہر قربانی کے لیے تیار ہیں، اقتدار ان کے لیے بے وقعت ہے اور عوام کی طاقت ہی اصل طاقت ہے۔ وزیراعلیٰ کا یہ جذبہ اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے، لیکن اگر وہ واقعی اپنے اس مؤقف پر یقین رکھتے ہیں تو سیاسی روایات یہی کہتی ہیں کہ برطرفی یا کسی اور فیصلے کا انتظار کرنے کے بجائے خود ایک باوقار فیصلہ کرنا زیادہ مؤثر اور تاریخ میں بہتر مثال قائم کر سکتا تھا۔ کیونکہ اس وقت بلوچستان کے طول و عرض میں امن و امان، حکومتی رٹ اور عوامی اعتماد تینوں سنگین سوالات کی زد میں ہیں۔

تاہم اس تمام بحث میں سب سے اہم سوال وہ ہے جس پر شاید کم توجہ دی جا رہی ہے۔ کیا صرف وزیراعلیٰ کا استعفیٰ مسائل کا حل ہے؟ یا پھر ان تمام افراد اور اداروں کا بھی احتساب ہونا چاہیے جن کے پاس تعیناتی، منصوبہ بندی، احکامات جاری کرنے اور نگرانی کا اختیار تھا؟ اگر غلط فیصلہ ہوا، اگر اہلکاروں کو ناکافی وسائل اور ناقص منصوبہ بندی کے ساتھ خطرناک علاقے میں بھیجا گیا، تو اس کی ذمہ داری صرف ایک سیاسی منصب پر عائد نہیں ہوتی بلکہ فیصلہ سازی کی پوری زنجیر پر عائد ہوتی ہے۔ اختیار رکھنے والوں کے لیے یہی لمحۂ فکریہ ہے کہ سیاسی حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر اداروں کی ساکھ، ریاست کا وقار اور عوام کا اعتماد اسی وقت برقرار رہتا ہے جب فیصلے میرٹ پر ہوں، غلطیوں کا اعتراف کیا جائے، ذمہ داروں کا بلاامتیاز احتساب ہو اور اگر کسی منصب پر رہنا عوامی اعتماد کی بحالی میں رکاوٹ بن جائے تو باوقار انداز میں الگ ہونا بھی جمہوری روایت کا حصہ سمجھا جائے۔ سانحۂ زیارت کے شہداء صرف انصاف کے منتظر نہیں بلکہ وہ پورے نظام سے یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر اختیار کا بوجھ کون اٹھائے گا اور جوابدہی کس کے دروازے پر دستک دے گی؟