زیارت مانگی ڈیم فیز تھری کے شہداء کے واقعے نے بلوچستان کی سیاسی فضا میں ایک غیر معمولی صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں، شہداء کے لواحقین، تاجر تنظیموں اور عوامی حلقوں کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سانحہ محض ایک خاندان یا ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے صوبے کا مشترکہ دکھ بن چکا ہے۔ احتجاجی تحریک کے لیے مرحلہ وار شیڈول، مذاکراتی اور قانونی کمیٹیوں کا قیام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ احتجاج کو منظم انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شہداء کے لواحقین اور شریک جماعتوں کا مؤقف ہے کہ ان جانوں کا ضیاع ایسے حالات میں ہوا جن کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں، اسی لیے وہ آزاد اور بااختیار جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بلوچستان کے حالات پہلے ہی پیچیدہ ہیں، اس لیے ایسے واقعات کے بعد اعتماد کی بحالی سب سے بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ اگر ایک ہی مسئلے پر مختلف سیاسی قوتیں، قوم پرست جماعتیں، مذہبی و پارلیمانی نمائندے اور سول سوسائٹی ایک آواز بن جائیں تو اسے محض معمول کا احتجاج نہیں سمجھا جا سکتا۔ حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس احتجاج کو صرف امن و امان کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے عوامی اعتماد اور انصاف کے تناظر میں دیکھے۔ اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ تمام فریق آئینی، قانونی اور پرامن ذرائع کو ہی اختیار کریں تاکہ کسی بھی قسم کی کشیدگی یا تصادم سے بچا جا سکے۔
موجودہ صورتحال بروقت، سنجیدہ اور دانشمندانہ فیصلوں کی متقاضی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر شہداء کے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے آزاد اور بااختیار جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کرے، شہداء کے لواحقین کے جائز مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے، مذاکراتی عمل کو مؤثر بنائے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات سامنے لائے۔ اگر احتجاجی شیڈول کے اعلان کے باوجود مسائل کے حل میں تاخیر کی گئی تو خدشہ ہے کہ حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کے امن و استحکام پر مرتب ہوں گے۔ ایسے نازک موقع پر ریاستی تدبر، شفاف انصاف اور بامقصد مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو اعتماد کی بحالی اور دیرپا امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
