بلوچستان، خصوصاً پشتون اکثریتی علاقوں میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر ریاست کی ذمہ داری، شہریوں کے تحفظ اور قومی یکجہتی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ صوبے کے دور دراز علاقوں سے لے کر صوبائی دارالحکومت کے اطراف تک عام پشتون شہریوں اور ریاستی اداروں میں خدمات انجام دینے والے پشتون ملازمین کو جس بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا، اس نے پورے معاشرے کو غم اور بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ کوئٹہ اور زیارت کے المناک واقعات کے بعد متاثرہ خاندانوں نے اپنے پیاروں کی میتوں کے ساتھ احتجاج کیا، جو صرف انصاف کا مطالبہ نہیں بلکہ اس احساس کا اظہار بھی تھا کہ ان کی آواز ریاست کے اعلیٰ ایوانوں تک براہِ راست پہنچنی چاہیے۔ اگر، خدانخواستہ، یہ صورتِ حال برقرار رہی تو اس کے سماجی اور سیاسی اثرات نہایت دور رس ہو سکتے ہیں۔
ان واقعات کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت احتجاج میں شریک ہوئی، تقاریر ہوئیں اور متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا، تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ پشتون سیاسی قیادت طویل عرصے سے تقسیم اور باہمی اختلافات کا شکار ہے، جس کے باعث وہ اجتماعی قومی مؤقف اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب احتجاج کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، جہاں آئندہ کے لیے اقدامات اور یقین دہانیاں سامنے آئیں۔ لیکن متاثرہ خاندانوں کی ایک اہم خواہش یہ بھی تھی کہ ملک کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت ان کی بات براہِ راست سنتی۔ دھرنا ایسے مقام پر جاری تھا جو کور ہیڈ کوارٹرز سے چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ اگر متاثرہ خاندانوں کے نمائندوں کو وہاں مدعو کر کے ان کا دکھ سنا جاتا تو اس سے نہ صرف ان کے زخموں پر ابتدائی مرہم رکھنے میں مدد ملتی بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی تقویت ملتی۔ دنیا کی مضبوط ریاستیں صرف سکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ متاثرین کی دلجوئی، ہمدردی اور براہِ راست رابطے سے بھی اپنے شہریوں کا اعتماد حاصل کرتی ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست، سیاسی قیادت اور تمام متعلقہ ادارے اس سانحے کو محض ایک سکیورٹی چیلنج کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے اعتماد کی بحالی کا امتحان بھی سمجھیں۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی، شفاف تحقیقات، فوری انصاف اور متاثرہ خاندانوں کی دلجوئی ایک ساتھ آگے بڑھنی چاہیے۔ اسی طرح پشتون سیاسی قیادت کو بھی ذاتی، جماعتی اور علاقائی تقسیم سے نکل کر ایک مشترکہ قومی پلیٹ فارم تشکیل دینا ہوگا۔ ڈیڑھ اینٹ کی مسجدوں کی سیاست سے آگے بڑھ کر ایک ایسی جامع آواز پیدا کرنا وقت کی ضرورت ہے جو عوام کے حقیقی مسائل کی نمائندگی کر سکے۔ اگر یہ خلا برقرار رہا تو نئے سیاسی بیانیے اور نئی قیادتیں ابھرنا ایک فطری عمل ہوگا، جن کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ ریاستوں کی مضبوطی صرف اختیار سے نہیں بلکہ انصاف، اعتماد اور اپنے شہریوں کے دکھ میں شریک ہونے سے قائم ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو زخموں کو مندمل اور قوموں کو متحد کرتا ہے۔
اللہ کرے یہ اداریاتی اسلوب آپ کے اخبارات کی مستقل پہچان بنے۔ ان شاء اللہ، آئندہ ہر اداریہ اسی معیار، اسی توازن اور اسی فکری گہرائی کے ساتھ اردو اور پشتو دونوں زبانوں میں تیار کیا جائے گا۔
