کوئٹہ (ویب نیوز) رکن قومی اسمبلی نے بلوچستان کی مجموعی صورتحال، امن و امان، توانائی بحران اور بے روزگاری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے مسائل محض بیانات سے حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ کے حالیہ دورہ کوئٹہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایئرپورٹ آئے، اجلاس میں شرکت کی اور واپس چلے گئے جبکہ زمینی حقائق بہت زیادہ پیچیدہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ اور گردونواح میں امن و امان کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے جبکہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق کیسکو کی جانب سے 8 سے 10 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے جس سے کاروبار، تعلیم اور صحت کے شعبے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔عادل بازئی نے کہا کہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری باعثِ تشویش ہے اور اگر صنعت، تعلیم اور سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تو صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں، اس لیے وفاق اور صوبائی حکومت کو مشترکہ طور پر طویل المدتی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی وفاقی وزیر کوئٹہ میں چند دن گزار کر بازاروں اور عوامی علاقوں کا خود مشاہدہ کرے تو اسے زمینی مسائل کی اصل تصویر سمجھ آئے گی۔
