اداریہ ۱۸ ستمبر ۲۰۲۶

جرگہ، فیصلہ اور منزل کی طرف پیش قدمی

پشتون جرگہ صرف مشاورت کا نام نہیں، بلکہ اجتماعی مسئلے کی نشاندہی، فیصلہ اور اس پر عمل کی روایت ہے۔ 21 جون 1947ء کے بنوں جرگے نے پشتون اکثریتی علاقوں کے سیاسی مستقبل کے لیے ہندوستان یا پاکستان کے بجائے ایک الگ سیاسی اختیار کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ قبول نہ ہوا اور بعد کے ریفرنڈم میں صرف دو اختیارات رکھے گئے۔ اس موقع پر بائیکاٹ کیا گیا۔ تاریخ کا یہ سوال آج بھی اہم ہے کہ اگر جرگے کے فیصلے کو عملی سیاسی راستہ ملتا، یا ریفرنڈم میں شرکت کرکے دستیاب سیاسی میدان کو آزمایا جاتا، تو حالات کس حد تک مختلف ہوتے۔ اس کا حتمی جواب ممکن نہیں، مگر سبق واضح ہے: فیصلے کے ساتھ عملی حکمت عملی بھی ضروری ہے۔

اکتوبر 2024ء کے جمرود قومی جرگے نے بدامنی، نقل مکانی، وسائل، بجلی، شناختی دستاویزات، سیاسی قیدیوں اور تجارت سمیت اہم مسائل اٹھائے۔ کوئٹہ کے حالیہ مشاورتی جرگے نے بھی امن، کرپشن، شاہراہوں، وسائل اور سیاسی و معاشی مسائل پر توجہ دلائی ہے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ جرگوں کے فیصلے قراردادوں سے نکل کر عمل کا حصہ بنیں۔

اس کے لیے پہلے 100 دن میں مسائل اور اعدادوشمار کی دستاویز، چھ ماہ میں مشترکہ کم از کم ایجنڈا اور ضلعی رابطہ نظام، ایک سال میں پیش رفت کا عوامی احتساب اور تین سال کے لیے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔ نوجوانوں کو بھی تحقیق، آئین، قانون، معیشت اور پُرامن جمہوری جدوجہد سے جوڑا جائے۔

آج کا لشکر مسلح قوت نہیں بلکہ **علم، تنظیم، قانون، ووٹ، تحقیق اور پُرامن اجتماعی عمل ہے۔ بنوں کا تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ فیصلہ اگر عملی حکمت عملی سے نہ جڑے تو تاریخ سوال چھوڑ دیتی ہے۔ اب جرگے کا اگلا مرحلہ ایک اور قرارداد نہیں بلکہ **مقررہ وقت، ذمہ داری اور عمل درآمد ہونا چاہیے۔
*جرگہ فیصلہ کرے، نوجوان منزل سنبھالیں، آئین راستہ دکھائے، عمل وقت مقرر کرے—اور قوم ہر فیصلے کا حساب لے