کوئٹہ (صداقت انٹرنیشنل) بلوچستان پرنٹ میڈیا کے چیئرمین سید انور شاہ کی قیادت میں ایک نمائندہ وفد نے نوابزادہ لشکری رئیسانی سے ملاقات کرکے صوبائی کابینہ کی جانب سے پرنٹ میڈیا کے حوالے سے کیے گئے حالیہ فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ وفد نے کہا کہ بلوچستان میں ایسے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کی مثال ملک کے کسی اور صوبے میں نہیں ملتی اور اگر یہ فیصلے نافذ کیے گئے تو سینکڑوں اخبارات و جرائد بند جبکہ ہزاروں افراد بے روزگار ہوسکتے ہیں، جس سے صوبے میں بے چینی اور اضطراب میں مزید اضافہ ہوگا۔ وفد میں سید انور شاہ، ڈاکٹر ناشناس لہڑی، میر فاروق لانگو، کلیم صدیق، سردار شاہ زمان پیرکانی اور ملک بشیر شاہوانی شامل تھے۔ وفد نے کہا کہ بلوچستان پہلے ہی بدامنی، بے روزگاری، سیاسی بے یقینی، اظہارِ رائے پر دباؤ اور عوامی مسائل کا شکار ہے، ایسے میں مقامی پرنٹ میڈیا کو محدود کرنے کی کوششیں تشویشناک ہیں۔ اس موقع پر سید انور شاہ نے کہا کہ بلوچستان کا پرنٹ میڈیا ہمیشہ عوامی مسائل، انسانی حقوق، تعلیم، صحت اور روزگار جیسے اہم معاملات کو اجاگر کرتا رہا ہے، جبکہ مجوزہ اقدامات نہ صرف صحافتی آزادی کیلئے خطرہ ہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار کو بھی متاثر کریں گے۔ نوابزادہ لشکری رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق، وسائل اور سیاسی نمائندگی کے سنگین مسائل پہلے ہی موجود ہیں اور پرنٹ میڈیا کو کمزور کرنا دراصل صوبے کی حقیقی آواز کو دبانے کے مترادف ہوگا کیونکہ علاقائی اخبارات دور دراز علاقوں کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے تمام حقیقی سیاسی جماعتوں، صحافتی تنظیموں اور قوم پرست قوتوں پر زور دیا کہ وہ اظہارِ رائے، جمہوری عمل اور عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں۔
