تازہ ترین ۱۰ جون ۲۰۲۶

قومی شاہراہ پر مسلح ڈاکوں کی مسافر گاڑیوں پر فائرنگ اور لوٹ مار، ڈرائیور سمیت 5 مسافر زخمی

سبی (صداقت ویب سائٹ)کچھی کے علاقے میں قومی شاہراہ (این 65)پر لمجی کے مقام پر رات گئے مسلح ڈاکوں نے مسافر گاڑیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی اور مسافروں سے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں وین ڈرائیور سمیت پانچ مسافر شدید زخمی ہو گئے، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ مسلح ڈاکوں نے پشاور اور دیگر شہروں کو جانے والی گاڑیوں کے مسافروں سے اسلحے کے زور پر لاکھوں روپے نقدی، درجنوں موبائل فون اور دیگر قیمتی سفری سامان چھین لیا اور واردات کے بعد باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔اس لرزہ خیز واقعے اور بدامنی کے خلاف ٹرانسپورٹرز اور مسافروں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے لاشیں اور گاڑیاں سڑک پر رکھ کر قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بلاک کر دیا۔ نیشنل ہائی وے بند ہونے کے باعث سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگ گئی ہیں، جس کی وجہ سے چلچلاتی دھوپ اور گرمی میں خواتین، بچوں اور بزرگ مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ انہیں شاہراہ پر دھرنا دیے ہوئے 12 گھنٹے سے زائد کا وقت گزر چکا ہے، لیکن کچھی انتظامیہ کا کوئی بھی ذمہ دار افسر اب تک ان سے مذاکرات یا یکجہتی کے لیے موقع پر نہیں پہنچا۔ ٹرانسپورٹرز نے اعلان کیا ہے کہ جب تک مسلح ڈاکوں کو فوری گرفتار کر کے شاہراہوں پر مسافروں کا تحفظ یقینی نہیں بنایا جاتا، ان کا یہ احتجاجی دھرنا جاری رہے گا۔