مقامی ۶ مئی ۲۰۲۶

ژوب، مدارس کی بندش اور مولانا ادریس شہید کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر تاریخی شٹر ڈاون ہڑتال . حکومت دینی اداروں کو نشانہ بنانا بند کرے، معدنیات کی متنازع الاٹمنٹ فوری منسوخ کی جائے، جے یو آئی و وفاق المدارس

Daily Sadaqat International

ژوب ( صداقت انٹرنیشنل نیوز)جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر محسن بلوچستان سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کے حکم پر، بلوچستان میں مدارسِ اسلامیہ کی ناجائز تالا بندی، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس شہید کی المناک شہادت اور قاتلوں کی عدم گرفتاری، نیز بلوچستان کے مختلف قبائلی علاقوں میں مائنز اینڈ منرلز(معدنیات)کی متنازع الاٹمنٹ کے خلاف صوبائی کٹھ پتلی حکومت اور ضلع ژوب کی نااہل سرکاری انتظامیہ کے خلاف جمعیت علما اسلام ژوب اور وفاق المدارس العربیہ ژوب کے زیرِ اہتمام آج بروز بدھ ژوب شہر میں مکمل اور تاریخی شٹرڈان ہڑتال کامیابی کے ساتھ جاری رہی اس موقع پر جمعیت علما اسلام ژوب اور وفاق المدارس العربیہ ژوب کی جانب سے ایک عظیم الشان اور بھرپور احتجاجی ریلی ضلعی امیر حضرت مولانا سرور خان صاحب کی قیادت میں ژوب شہر کی مختلف شاہراہوں پر نکالی گئی۔ ریلی کے شرکا نے صوبائی کٹھ پتلی حکومت اور نااہل ضلعی انتظامیہ کے خلاف شدید اور مسلسل نعرہ بازی کی، اور اپنے غم و غصے کا بھرپور اظہار کیااحتجاجی ریلی شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی بالآخر مولانا سید شمس الدین شہید چوک پہنچ کر ایک عظیم الشان احتجاجی جلسے میں تبدیل ہوگئی، جہاں عوام کا جمِ غفیر امڈ آیااحتجاجی مظاہرے کے بنیادی مطالبات درج ذیل ہیں دینی مدارس کی جبری اور ناجائز رجسٹریشن اور تالا بندی فوری طور پر بند کی جائے۔شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس شہید کے قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے۔بلوچستان کے قبائلی اضلاع میں مائنز اینڈ منرلز کی ناجائز الاٹمنٹ کا فیصلہ فی الفور واپس لیا جائے۔احتجاجی جلسے سے جمعیت علما اسلام ژوب کے ضلعی امیر حضرت مولانا سرور خان صاحب، ضلعی سرپرست شیخ الحدیث حضرت مولانا اللہ داد ضلعی نائب امیر حضرت مولانا امیر خان وفاق المدارس العربیہ ژوب کے ضلعی مسئول حضرت مولانا منیب الرحمان تحصیل ژوب کونسل امیر حضرت مولانا تاج الدین ، تحصیل کاکڑ خراسان امیر حضرت مولانا عبیداللہ صاحب، شیخ الحدیث حضرت مولانا ضیا الدین قریشی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی صدر مولانا آدم خان، اور جمعیت طلبہ ژوب کے ضلعی صدر مولانا دوست محمد حقانی نے پرجوش اور ولولہ انگیز خطابات کیے۔مقررین نے اپنے خطابات میں صوبائی کٹھ پتلی حکومت اور نااہل ضلعی انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو ژوب شہر میں سرعام منشیات کے اڈے اور ان کی کھلے عام فروخت نظر نہیں آتی، انہیں دن رات ہونے والی چوری، ڈکیتی اور راہزنی دکھائی نہیں دیتی، مگر افسوس کہ وہ دینی مدارس پر رات کی تاریکی میں ڈاکوں کی طرح حملہ آور ہوتے ہیں۔ معصوم طلبہ پر وحشیانہ یلغار آخر کس قانون اور کس انسانیت کے تحت کی جا رہی ہیاحتجاجی مظاہرے میں مدارس کے طلبہ اور عوام الناس نے نااہل سرکاری انتظامیہ کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور اس ظلم و ناانصافی کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرنے کا دوٹوک فیصلہ کیا۔ضلعی امیر حضرت مولانا سرور خان صاحب نے اپنے خطاب میں واضح اعلان کیا کہ جب تک جمعیت علما اسلام کا ایک بھی کارکن زندہ ہے، کوئی طاقت مدارسِ اسلامیہ کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتی۔مقررین نے حکومت وقت کو خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس شہید کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے، اور بلوچستان کے قبائلی علاقوں میں مائنز اینڈ منرلز کی الاٹمنٹ کا فیصلہ فوری طور پر منسوخ کر کے عوام کے حقوق انہیں واپس کیے جائیں۔آخر میں ضلعی ناظم عمومی حافظ سید امیر صاحب نے تمام شہریوں، تاجر برادری، دکانداروں اور کارکنان کا بھرپور شرکت پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔