مقامی ۲ جون ۲۰۲۶

ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنے کے لیے گولی سے زیادہ سوشل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے جمال خان رئیسانی

کوئٹہ(صداقت ویب نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی، صوبائی وزیرمیر عاصم کرد گیلو، حاجی علی مدد جتک اور میر فرید رئیسانی نے کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال خان رئیسانی کہا ہے کہ آج ہم ایک انتہائی حساس، سنگین اور اہم معاملے پر میڈیا کے سامنے آئے ہیں۔ یہ صرف ایک روایتی پریس کانفرنس نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف لڑی جانے والی ایک ایسی خاموش مگر انتہائی خطرناک جنگ کی نشاندہی ہے، جو پہاڑوں سے زیادہ اب زمینوں پر اور بارود سے زیادہ موبائل فونز کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔ دشمن گولی سے زیادہ جدید پروپیگنڈے کے ذریعے ہمارے معصوم نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا کر ان کی برذہن سازی کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنماں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بلوچستان ایک عرصے سے حالتِ جنگ میں ہے، جہاں دہشت گردی، بیرونی مداخلت اور چند علیحدگی پسند عناصر موجود ہیں، لیکن اب دشمن نے اپنی حکمتِ عملی اور وارفیئر کا طریقہ کارٹرانسفارم کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ روایتی جنگ اب ہائبرڈ وارفیئر میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں دشمن بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور انکرپٹڈ کمیونیکیشن ایپس کا بے دریغ استعمال کر رہا ہے۔ دشمن کا اصل ہدف نام نہاد انسانی حقوق کے پلیٹ فارمز کو ڈھال بنا کر ریاست کے خلاف استعمال کرنا ہے تاکہ مقامی عوام کو گمراہ کر کے ریاست اور عوام کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کی جا سکے، جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ نے سیکیورٹی رپورٹس کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دعوے میں خود سے نہیں کر رہا بلکہ یہ ہمارے ملکی سیکیورٹی اداروں کی حالیہ رپورٹس اور انفوگرافکس کے واشگاف حقائق ہیں۔ انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران اہم تفصیلات سامنے لاتے ہوئے کہا کہ جب بھی صوبے میں دہشت گردی کی بات ہوتی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ کالعدم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام سرفہرست آتا ہے، جو سیکیورٹی اداروں کو انتہائی مطلوب ہے۔ سال 2018 میں جب سے بشیر زیب نے کمان سنبھالی، صوبے میں دہشت گردی، سوشل میڈیا پروپیگنڈے اور امن و امان کی خراب صورتحال میں تیزی سے اضافہ ہوا، لیکن اب اس پورے نیٹ ورک کے پیچھے ایک اور انتہائی اہم اور خطرناک کردار سامنے آیا ہے جس کا نام ‘جنید’ ہے۔جمال خان رئیسانی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عوام اور صحافی اس بات کو اچھی طرح سمجھیں کہ بشیر زیب تو سامنے کا چہرہ ہے، مگر یہ ‘جنید’ نامی شخص پردے کے پیچھے رہ کر اصل اور اہم ترین تانے بانے ہلا رہا ہے۔ حالیہ انٹیلیجنس رپورٹس میں اس کا نام بار بار سامنے آیا ہے، جس کے مطابق جنید مختلف شہروں میں ان گرانڈ اپنے ہم نظریہ نیٹ ورکس اور خاص طور پر نام نہاد انسانی حقوق کی ایک تنظیم، جسے آپ بی وائی سی (BYC) کہتے ہیں، کی اعلی لیڈرشپ کے ساتھ براہ راست اور مسلسل رابطے میں ہے۔ رپورٹس کے مطابق جنید نہ صرف بشیر زیب کا رائٹ ہینڈہے بلکہ وہ کلعدم بی ایل اے کا اپریشنل کمانڈر بھی ہے، جو اس نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیم کے سافٹ امیج کو برقرار رکھنے کے لیے پسِ پردہ تمام لاجسٹکس اور بھاری فنڈنگ فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کبھی بھی مخصوص نہیں ہو سکتے، لیکن ماضی گواہ ہے کہ بی وائی سی نے ہمیشہ ایک مخصوص طبقے کے پروپیگنڈے کو ایمپلیفائی اور پروموٹ کرنے کی کوشش کی ہے، جس کا مقصد صرف ریاست کو بدنام کرنا ہے۔انہوں نے کہ ہے کہ اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ کلعدم تنظیموں کو نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کا باقاعدہ ‘پولیٹیکل کورحاصل ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سیکیورٹی فورسز کو دہشت گرد اپریشنل کمانڈر ‘جنید’ کے نیٹ ورک کا سراغ اس وقت ملا جب کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاون میں سی ٹی ڈی نے ایک بڑا آپریشن کیا، جس میں متعدد ہائی پروفائل دہشت گرد مارے گئے اور بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد ہوا۔ اس کامیاب ریڈ سے یہ ثابت ہوا کہ جنید ہی اس پورے تخریبی نیٹ ورک کو ہیڈ کر رہا تھا، جس کے تانے بانے بشیر زیب، ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کی اعلی قیادت سے جا ملتے ہیں اب روایتی بندوقوں کی جنگ سے زیادہ خطرناک جنگ ڈیجیٹل اسکرینوں اور موبائل ایپس پر لڑی جا رہی ہے۔ دہشت گرد اور سو کالڈ ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ایک منظم پیٹرن کے تحت عوام اور بالخصوص نوجوانوں تک رسائی کے لیے انتہائی محفوظ اور انکرپٹڈ موبائل ایپلی کیشنز کا استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے بالخصوص تین سے چار ایپس کے نام لیتے ہوئے بتایا کہ ان میں ‘زنگی ایپ، ‘سگنل’ڈیلٹا چیٹ’اور ‘ٹیلی گرام’ شامل ہیں۔ زنگی ایپ کا مانیٹرنگ سسٹم عام نیٹ ورک کے لیے ناممکن ہے، جبکہ سگنل ایپ میں موجود پیغام کا خود بخودی سہولت کو یہ مجرمانہ مافیا حساس معلومات اور ریاستی مخالف پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح ڈیلٹا چیٹ عام واٹس ایپ کے مقابلے میں ای میل انکرپشن پر فوکس کرتی ہے، جس کا اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کوڈ انتہائی مضبوط ہے اور یہ سب ایک منظم پیٹرن کا حصہ ہے۔انہوں نے والدین اور معاشرے کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ دور گزر گیا جب کسی کو بھرتی کرنے کے لیے پیدل پہاڑوں پر لے جایا جاتا تھا، آج کل دشمن گولی چلانے کے بجائے سوشل میڈیا پر ‘ٹرینڈز’ اور ‘ہیش ٹیگز’ چلاتا ہے۔ احتجاجی دھرنوں، ریلیوں اور طالب علم تنظیموں کی آڑ میں نوجوانوں کے معصوم اور جذباتی ذہنوں کو نشانہ بنا کر ریاست کے خلاف اکسایا جاتا ہے، جس سے قوم میں پولرائزیشن پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے اس سال گوادر میں ہونے والے واقعے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مجید بریگیڈ کا ایک دہشت گرد ‘رضا عرف مسمار’ جو دھماکے میں ہلاک ہوا، وہ متواتر بی وائی سی کے دھرنوں اور کیمپوں میں جاتا رہا تھا۔ جمال رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان کے عوام اور والدین ہرگز یہ نہیں چاہتے کہ ان کے بچے دہشت گردی اور اشتعال پسندی کی بھینٹ چڑھیں، یہی وجہ ہے کہ جب صوبائی حکومت نے اینٹی ٹیررزم بل (دہشت گردی مخالف بل) پیش کیا تو باشعور والدین نے اس شرپسند ٹولے سے کھل کر لا تعلقی کا اظہار کیا۔