کوئٹہ(صداقت ویب نیوز)پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ سے جاری کردہ ایک سخت مذمتی بیان میں لورالائی کے سینئر صحافی، عوامی مسائل کے بے باک ترجمان اور آزادی صحافت کے علمبردار پیر محمد کاکڑ سمیت دیگر صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائمز یونٹ کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی، غیر آئینی اور سیاسی بنیادوں پر ایف آئی آرز کے اندراج کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ پارٹی نے اسے آزادی صحافت، آزادی اظہارِ رائے، جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی حقوق پر ایک سنگین حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صحافت کسی بھی جمہوری معاشرے کی آنکھ، کان اور ضمیر ہوتی ہے، جبکہ صحافی عوام اور ریاست کے درمیان ایک مثر رابطے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر صحافیوں کو حقائق بیان کرنے، عوامی مسائل اجاگر کرنے اور حکومتی کارکردگی پر تنقید کرنے کی پاداش میں مقدمات، ہراسانی اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے تو یہ نہ صرف آزادی صحافت پر حملہ ہے بلکہ پورے جمہوری نظام کے لیے خطرے کی علامت بھی ہے۔بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ موجودہ فارم 47 کی حکومت ملک میں جمہوری اقدار، آئین کی بالادستی، آزاد عدلیہ، آزاد صحافت اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے ایک منظم ایجنڈے پر عمل پیرا دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی کارکنوں، صحافیوں، وکلا، طلبا، دانشوروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف مقدمات کے تسلسل سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ حکمران عوامی مسائل کے حل، مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور معاشی بحران پر توجہ دینے کے بجائے اختلافی آوازوں کو دبانے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف جمہوری روایات کے منافی ہیں بلکہ ملک کے آئینی، سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو بھی کمزور کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 8 تا 28 شہریوں کے بنیادی حقوق اور شخصی آزادیوں کی واضح ضمانت فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں مختلف قوانین خصوصا پیکا ایکٹ کے تحت اظہارِ رائے کو محدود کرنے کی کوششیں اور تنقیدی آوازوں کو دبانے کے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکمران حلقے عوامی احتساب اور آزاد رائے سے خوفزدہ ہیں۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے پیر محمد کاکڑ کی صحافتی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان کے ان چند سینئر اور معتبر صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران صحافت کو عوامی خدمت، حق گوئی، اصولی جدوجہد اور مظلوم عوام کی آواز بننے کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے ہمیشہ جمہوری اقدار، آئین کی بالادستی، قومی حقوق، انسانی وقار اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، لہذا ان جیسی تجربہ کار اور باوقار صحافتی شخصیت کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج پوری صحافتی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ پارٹی نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پیر محمد کاکڑ اور دیگر صحافیوں کے خلاف درج تمام ایف آئی آرز فوری طور پر واپس لی جائیں، صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور طلبا کے خلاف قائم تمام من گھڑت مقدمات ختم کیے جائیں، اور آزادی اظہارِ رائے کے آئینی حق کا مکمل احترام کیا جائے۔ بیان کے آخر میں واضح کیا گیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی صحافتی برادری کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور آزادی صحافت، آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے اپنی سیاسی، جمہوری اور آئینی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی۔
