کوئٹہ(صداقت ویب نیوز)افغان قومی مومنٹ (اے کیو ایم)کے سربراہ احمد خان نے ایک مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشتون قوم کی سیاسی نمائندگی کسی فردِ واحد یا کسی ایک لسانی تنظیم تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے سلگتے ہوئے صوبے کے حالات پر غلط بیانی کو آگ پر تیل چھڑکنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی اشتعال انگیزی اور گھنانی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتون اور بلوچ برادر اقوام کسی بھی سیاسی، لسانی، جغرافیائی و علاقائی تعصب اور نفرت سے باخبر رہیں، ہر قسم کی سازش کو پسِ پشت ڈال کر بھائی چارگی کی راہ اپنائیں اور اپنے اکابرین احمد شاہ بابا اور نصیر خان نوری کے نقشِ قدم پر چل کر اتفاق و اتحاد سے وطن کے دشمنوں کو شکست دیں۔احمد خان نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پشتون بلوچ کارڈ کھیلنے والے سیاسی یتیموں کے لیے نظریاتی حدود ختم ہو چکی ہیں اور صوبے میں دونوں اقوام کی موجودہ حالتِ زار کے ذمہ دار شخصیت پرست اور قوم و مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے نام نہاد رہنما ہیں۔ اکیسویں صدی کے اواخر میں بھی 95 فیصد عوام کسمپرسی اور دربدری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ چند موروثی و خاندانی قوم و مذہب پرستوں نے سابقہ اور موجودہ ادوار میں باری باری اقتدار کے مزے لوٹ کر پشتون بلوچ ملی و قومی تشخص اور حقوق سے روگردانی اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ان قوم پرستوں کو اپنی سیاسی ساکھ کھونے کا خطرہ محسوس ہوتا ہے، تو یہ دونوں اقوام کو دست و گریبان کرنے کا کارڈ استعمال کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ بعض بلوچ موروثی سیاسی خاندان بلوچستان سنوار سکے اور نہ ہی پشتون قوم پرست پشتونستان بنانے میں کامیاب ہو سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پشتون دشمن قوتوں کا پشتونوں و افغانوں کی موجودہ حیثیت کو قبول کرنے سے انکار کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ ایسے پارلیمانی نام نہاد عہدے ہرگز قابلِ قبول نہیں ہونے چاہئیں جس میں بعض مفاد پرست عناصر برابری کے دعوے تو بھول جاتے ہیں لیکن مظلوم و محکوم عوام بھی اس کے ثمرات سے مکمل طور پر محروم رہتے ہیں۔ پشتون قوم کے ساتھ مذہب اور قوم پرستی کی بنیاد پر ہر دور میں دھوکہ ہوا ہے اور عوام کے احساسات سے کھیل کر حکومتیں کی گئی ہیں، مگر کسی کا انتخابی منشور آج تک وفا نہ ہو سکا جس کی وجہ سے عوام اب ہر طرف سے مایوس ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اے کیو ایم کا عوام دوست اکابرین کے نقشِ قدم پر کاربند پالیسی اور غریبوں، یتیموں اور بے کسوں کا منشور ضرور رنگ لائے گا۔
