مقامی ۲ جون ۲۰۲۶

بلوچستان بھر میں دوسرے روز بھی پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت عارضی طور پر بند، شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا

کوئٹہ(صداقت ویب نیوز)وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے اعلان کے بعد، کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں دوسرے روز بھی متعدد پیٹرول پمپس کی جانب سے ایرانی اور پاکستانی پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔ اس من مانی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور مسافروں، ٹرانسپورٹرز اور عام شہریوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے حکومتی اعلان کے فورا بعد پمپس کا بند ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ بعض عناصر اپنے مالی نقصان سے بچنے کے لیے مصنوعی قلت پیدا کر رہے ہیں۔کوئٹہ، خضدار، مستونگ، قلات، نوشکی، چاغی، پنجگور، تربت اور دیگر علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کئی مقامات پر شہریوں کو پیٹرول کے حصول کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے جبکہ بعض پمپس مکمل طور پر بند پائے گئے۔ عوامی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں کے پیٹرول پمپس کا بند ہونا انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر پیٹرول پمپ مالکان جان بوجھ کر فروخت روک رہے ہیں تو ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ کیا جائے اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال اس صورتحال پر کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا ہے۔