مقامی ۲ جون ۲۰۲۶

زہری میں بی این پی رہنما کے گھر پر چھاپہ، سردار نصیر موسیانی بیٹوں سمیت گرفتار، ساجد ترین ایڈووکیٹ کی پریس کانفر نس

کوئٹہ(صداقت ویب نیوز)بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مرکزی سینئر نائب صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ نے کوئٹہ پریس کلب میں پارٹی کے سینئر رہنماں کے ہمراہ ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے خضدار کے علاقے بلبل زہری میں پارٹی کے سینئر رہنما، سابق ڈسٹرکٹ ناظم اور موسیانی قبیلے کے چیف سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پر فورسز کے چھاپے، ان پر تشدد اور ان کے بیٹوں سمیت گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے کٹھ پتلی حکومت کا شرمناک اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی قیادت کو بلوچستان میں جاری ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے روکنے کے لیے ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پریس کانفرنس کے موقع پر بی این پی کے مرکزی قائدین آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ، اختر حسین لانگو، موسی بلوچ، احمد نواز بلوچ، صمند بلوچ، ثنا بلوچ اور دیگر بھی موجود تھے۔ساجد ترین ایڈووکیٹ نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بلبل زہری میں فورسز اور آزادی پسندوں کے درمیان مسلح جھڑپ کے بعد سکیورٹی فورسز کی 10 سے 12 گاڑیاں سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پہنچیں۔ وہاں کسی میجر نے سردار نصیر احمد کو دھکا دیا جس سے وہ گر کر زخمی ہو گئے، جبکہ ان کے بیٹے میر زہری خان کو زدوکوب کیا گیا اور دوسرے بیٹے میر خلیل احمد کو گولی مار کر شدید زخمی کر دیا گیا۔ فورسز نے سردار نصیر اور ان کے دونوں بیٹوں سمیت کئی عزیز و اقارب کو گرفتار کر کے بلبل کراس کے ایک اسکول میں بند کر دیا جسے حراستی مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کے خلاف احتجاج کے لیے پہنچنے والے قبائلی عمائدین اور مردوں کو بھی اسی اسکول میں بند کر دیا گیا ہے اور اب صرف خواتین باہر کھڑی احتجاج کر رہی ہیں، جبکہ زہری کے عوام گزشتہ ایک سال سے کرفیو جیسی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ سردار نصیر احمد موسیانی نے ہمیشہ جمہوری اور آئینی راستہ اختیار کیا ہے، ان کے خلاف یہ کارروائی بلوچستان میں جمہوری سیاست کے وجود پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے قائد سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں ہر قسم کے جبر کے خلاف سیاسی و آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔ بی این پی نے مطالبہ کیا ہے کہ سردار نصیر احمد، ان کے بیٹوں اور تمام گرفتار شہریوں کو فوری رہا کیا جائے، اسکول اور ہسپتال کو فوری خالی کیا جائے اور بلبل زہری میں ہیلی کاپٹر شیلنگ اور فائرنگ کے واقعات کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے ملک کی تمام جمہوریت پسند قوتوں، وکلا اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے آواز اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بی این پی اس واقعے کے خلاف 4 جون (جمعرات) کو صوبہ بھر کے تمام پریس کلبوں کے سامنے بھرپور احتجاج کرے گی، جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے کل پارٹی کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔