مقامی ۲ جون ۲۰۲۶

قلات میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران مبینہ طور پر 30 گاڑیاں چھین لی گئیں، پولیس ریکارڈ میں صرف 5 کی ایف آئی آر درج

کوئٹہ(صداقت ویب نیوز)قلات اور اس کے گرد و نواح میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور گاڑیوں کے چھینے جانے کی وارداتوں میں اچانک بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے، جس کے بعد متاثرہ شہریوں نے پولیس انتظامیہ کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران ضلع بھر میں مبینہ طور پر 30 کے قریب گاڑیاں چوری اور اسلحے کے زور پر چھین لی گئی ہیں، لیکن پولیس ریکارڈ میں روایتی طور پر حقائق کو چھپاتے ہوئے صرف 5 گاڑیوں کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ متاثرہ شہریوں نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب وہ اپنی گاڑیوں کی چوری یا چھینے جانے کی رپورٹ لے کر تھانے جاتے ہیں، تو پولیس مزید مقدمات درج کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتی اور انہیں ٹرخا دیا جاتا ہے۔عوامی حلقوں، سماجی رہنماں اور متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال اس طرح تو ہرگز کنٹرول نہیں ہوگی کہ ریکارڈ میں صرف 5 گاڑیاں دکھا کر باقی 25 گاڑیوں کی ایف آئی آر ہی درج نہ کی جائے اور جرائم کی اصل سنگینی کو فائلوں کے پیچھے چھپایا جائے۔ شہریوں نے صوبائی حکومت اور اعلی حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین غفلت اور بدانتظامی پر ڈی پی او قلات سے سخت بازپرس ہونی چاہیے کہ آخر کس بنیاد پر جرائم کے گراف کو فائلوں میں جان بوجھ کر کم دکھایا جا رہا ہے اور عوام کو اس طرح جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟ انہوں نے آئی جی بلوچستان سے معاملے کا فوری نوٹس لینے اور تمام گاڑیوں کے مقدمات درج کر کے بحالیِ امن کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی اپیل کی ہے۔