کوئٹہ(صداقت ویب نیوز)جمعیت علما اسلام نظریاتی پاکستان کے قائم مقام امیر مولانا عبدالقادر لونی، مرکزی کنوینر مفتی شفیع الدین، مرکزی سرپرست اعلی مولانا ڈاکٹر شمس الہدی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا محمود الحسن قاسمی، مرکزی سیکرٹری مولانا قاری مہراللہ، سیکرٹری اطلاعات سید حاجی عبدالستار شاہ چشتی، مرکزی سیکرٹری مالیات حاجی حیات اللہ کاکڑ اور مفتی فدا الرحمن نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں ملک بالخصوص بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت امن و امان کے قیام میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ آئے روز دہشت گردی، دھماکوں اور خونریزی کے واقعات حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، اور بدامنی کے ان سنگین واقعات پر حکومت کے اقدامات صرف مذمتی بیانات تک ہی محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔مرکزی رہنماں نے کہا کہ مذموم عزائم اور نام نہاد دہشت گردی کے ذریعے صوبے کے امن کو دانستہ طور پر سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور ان اندوہناک و وحشتناک واقعات پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ بدامنی کے اس مسلسل سلسلے کی وجہ سے عوام شدید اضطراب اور بے چینی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام اربابِ اختیار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بدامنی کے اس سنگین مسئلے کو ذمہ داری اور سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔ قوم اپنے پیاروں کے جنازے اٹھا اٹھا کر تھک چکی ہے، آخر کب تک یہ مظلوم قوم اسی طرح جنازے اٹھاتی رہے گی؟جے یو آئی نظریاتی کے قائدین نے زور دیا کہ اب ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ باہمی اتفاقِ رائے سے قیامِ امن کے لیے ایک ٹھوس لائحہ عمل طے کریں اور ملک دشمنوں کے مذموم عزائم کو عوام کے سامنے بے نقاب کریں۔ انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے صرف اقتدار کی خاطر ملک کی سلامتی کو دا پر لگا دیا ہے، جس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے اور اب حالت یہ ہو چکی ہے کہ شہروں کے وسط میں بھی معصوم عوام کو نشانہ بنا کر قتل کیا جا رہا ہے، جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔
